سنن النسائي - حدیث 3469

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب التَّوْقِيتِ فِي الْخِيَارِ صحيح أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَمُوسَى بْنُ عُلَيٍّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَايَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا إِلَى قَوْلِهِ جَمِيلًا فَقُلْتُ أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ حِينَ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاخْتَرْنَهُ طَلَاقًا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُنَّ اخْتَرْنَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3469

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل طلاق کے اختیار میں مدت مقرر ہوسکتی ہے نبیﷺ کی زوجئہ محترمہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی بیویوں کو ا ختیار دینے کا حکم ہوا تو آپ سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’میں تجھ سے ایک بات کرتا ہوں۔ جواب دینے میں جلدی کی ضرورت نہیں۔ بے شک اپنے والدین سے مشورہ کرلینا۔‘‘ (آپ نے یہ اس لیے فرمایا کہ) آپ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ پھر آپ نے یہ تلاوت فرمائی: {یٰآیُّھَاالنَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ…} ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے: اگر تم دنیا کی زندگی اور زیب وزینت کی طالب ہوتو آؤ میں تمہیں اچھے طریقے سے فارغ کردوں…۔‘‘ میں نے فوراً کہا: کیا میں اس کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ طلب کروں؟ میں تو ہر حال میں اللہ تعالیٰ‘ اس کے رسول اور آخرت ہی کی طلب گار ہوں‘ پھر دیگر ازواج مطہرات نے بھی اسی طرح کہا جس طرح میں نے کہا تھا۔ تو جب رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں سے یہ کچھ کہا اور انہوں نے آپ ہی کو اختیار کیا تو یہ طلاق نہ بنی کیونکہ انہوں نے (بجائے طلاق کے) آپ کو اختیار کیا۔ (۱) خاوند اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے سکتا ہے کہ اگر تو چاہے تو طلاق لے لے۔ اگر عورت جواب میں کہے: میں نے طلاق لے لی تو اسے طلاق ہوجائے گی۔ البتہ اختلاف ہے کہ وہ طلاق رجعی مدت مقرر کردے تو اس مدت میں بھی وہ کسی وقت طلاق اختیار کرسکتی ہے جیسے رسول اللہﷺنے حضرت عائشہؓ کو مہلت دی کہ فوراً جواب نہ دے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرنے کے بعد جواب دے دینا۔ (۲) نبیﷺ کی ازواج مطہراتf نے ابتدائی دور میں آپ سے اخراجات کے مطالبے کیے تھے جو آپ کی دسترس سے باہر تھے‘ نیز وہ آپ کی نبوی مزاج کے بھی خلاف تھے‘ اس لیے آپ کو پریشانی ہوئی۔ اللہ تعا لیٰ نے حل تجویز فرمایا کہ آپ کی بیویوں کا مزاج‘ نبوی مزاج کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں۔ توجہ دنیا کی بجائے عقبیٰ کی طرف ہو۔ اگر ہو اس مزاج کو اختیار نہ کرسکیں تو آپ سے طلاق لے لیں اور دنیا کہیں اور تلاش کرلیں۔ آپ نے یہی بات اپنی بیویوں سے ارشاد فرمائی۔ مقصد ان کی تربیت تھا۔ ایک ماہ تک وہ رسول اللہﷺ کی جدائی سے بہت کچھ سیکھ چکی تھیں‘ لہٰذا سب نے رسول اللہﷺ اور آخرت کو پسند کیا اور ہر عسرویسر میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور پھر آخر زندگی تک ان کی زبان سے کوئی مطالبہ نہ نکلا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُنَّ۔