سنن النسائي - حدیث 3453

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب الْحَقِي بِأَهْلِكِ صحيح أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ إِسْحَقَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى صَاحِبَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لَا بَلْ تَعْتَزِلُهَا فَلَا تَقْرَبْهَا فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي فِيهِمْ فَلَحِقَتْ بِهِمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3453

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل بیوی کو کہنا ’’اپنے گھر چلی جا‘‘ جب کہ ارادہ طلاق کا نہ ہو حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہا: میں نے اپنے والد محترم حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان فرماتے سنا‘ اور میرے والد ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے مجھے اور میرے دوسرے دو ساتھیوں کو پیغام بھیجا کہ رسول اللہﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی عورتوں سے جدا رہو۔ میںنے قاصد سے کہا: میں اسے طلاق دے دں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں‘ بلکہ صرف اس سے الگ رہ‘ اس کے قریب نہ جانا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تو اپنے میکے چلی جا اور ان کے پاس رہ۔ چنانچہ وہ میکے چلی گئی۔ (۱) ’’اس کے قریب نہ جانا‘‘ یعنی جماع وغیرہ نہ کرنا۔ بیوی سے بول چال منع نہ تھی۔ حضرت کعب چونکہ نوجوان تھے‘ انہوں نے خطرہ محسوس فرمایا کہ پاس رہنے کی صورت میں کہیں جماع وغیرہ نہ ہوجائے‘ اس لیے انہوں نے از خود ہی بیوی کو میکے بھیج دیا۔ (۲) ’’جن کی توبہ قبول ہوئی‘‘ غزوہ تبوک میں جہاد پر جانا فرض عین ہوگیا تھا‘ لہٰذا جو نہیں گئے‘ ان سے پوچھ گچھ ہوئی۔ منافقین توجھوٹ بول کر جان چھڑا گئے مگر جو تین مخلص مسلمان سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے‘ انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرلی‘ کوئی عذر نہیں گھڑا اور اپنے آپ کو ر سول اللہﷺ کے سپرد کردیا۔ رسول اللہﷺ نے تمام اسلامی معاشرے کو ان کے بائیکاٹ کا حکم دے دیا‘ کوئی ان سے سلام دعا تک نہ کرتا تھا حتیٰ کہ ان پر زمین تنگ ہوگئی مگر یہ اللہ او ر اس کے رسول کے وفادار رہے۔ آخر پچاس دن کی صبر آزمائش کے بعد ان کی توبہ کی قبولیت کا حکم اترا اور ان کی آزمائش ختم ہوئی۔ ان بزرگوں نے ایسی سخت ترین آزمائش میں صبر عظیم کا مظاہرہ کیا اور جنت کے حق دار پائے۔ ان کے نام یہ ہیں: حضرت کعب بن مالک‘ حضرت مراہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہمُ۔