سنن النسائي - حدیث 3436

كِتَابُ الطَّلَاقِ الطَّلَاقُ لِلَّتِي تَنْكِحُ زَوْجًا ثُمَّ لَا يَدْخُلُ بِهَا صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3436

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل تین طلاقوں والی عورت کسی شخص سے نکاح کرے اور دخول کے بغیر اسے طلاق ہوجائے؟ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں‘ پھر اس عورت نے کسی اور مرد سے شادی کرلی اور وہ اس کے ساتھ علیحدہ ہوا تو لیکن جماع کیے بغیر طلاق دے دی‘ کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’نہیں‘ حتیٰ کہ وہ دوسرا (نکاح کرنے والا) شخص اس عورت کا مزا چکھے اور عورت اس مر دکا مزا چکھے (لذت جماع حاصل کریں)۔‘‘ (۱) مذکورہ حدیث کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قراردیتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ بخاری ومسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محقق کتاب کے نزدیک بھی یہ حدیث قابل حجت ہے‘ نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قراردیا ہے۔ (۲) جس عورت کو تین طلاقیں ہوجائیں‘ وہ اس خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے الا یہ کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور وہ دونوں آپس میں خاوند بیوی کی طرح رہیں‘ جماع وغیرہ کریں‘ پھر ان دونوں میں نباہ نہ ہوسکے اور دوسرا شخص اپنی مرضی سے اسے طلاق دے دے تو وہ عورت عدت گزنے کے بعد اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے‘ لیکن اگر دوسرے خاوند نے جماع کے بغیر طلاق دے دی تو وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ اس سارے عمل میں کوئی ’’سازش‘‘ نہیں ہونی چاہیے‘ یعنی دوسرا نکاح پہلے خاوند کے لیے حلال کرنے کی نیت سے نہ ہو‘ ورنہ نکاح نہیں ’’زنا‘‘ ہوگا۔ اور وہ پہلے خاوند کے لیے بھی حلال نہ ہوگی۔ صحیح حدیث میں اس ’’سازش‘‘ کے کرداروں (حلالہ کرنے اور کروانے والے) پر لعنت کی گئی ہے۔ (مزید دیکھیے‘ حدیث:۳۲۳۸)