سنن النسائي - حدیث 3431

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَاب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَيَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتَ عَنْهَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ عُوَيْمِرٌ قَالَ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3431

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل تین طلاقیں اکٹھی دینے کی رخصت حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ (اپنے سردار) حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: عاصم! بتائیے اگر ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کردے؟ پھر اسے لوگ (قصاص میں) قتل کردیں گے‘ یا وہ کیا کرے؟ آپ میرے لیے یہ مسئلہ رسول اللہﷺ سے پوچھیں۔ چنانچہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا لیکن رسول اللہﷺ نے ایسے سوالات کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب سمجھا حتیٰ کہ حضرت عاصم پر رسول اللہﷺ سے سنی ہوئی بات بہت شاق گزری۔ پھر جب عاصم اپنے گھر واپس آئے تو عویمر نے آکر کہا: عاصم! رسول اللہﷺ نے تمہیں کیا کہا ہے؟ عاصم کہنے لگے: تو میرے پاس کوئی اچھی چیز نہیںلے کر آیا۔ رسول اللہﷺ نے تیرے اس سوال کو ناپسند فرمایا ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو باز نہیں آؤں گا حتیٰ کہ میں یہ مسئلہ خود رسول اللہﷺ سے پوچھوں۔ عویمر آئے تو رسول اللہﷺ درمیان بیٹھے تھے۔ اور انہوں نے (آکر) کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کوئی اور آدمی دیکھ لیتا ہے تو کیا وہ اسے قتل کردے؟ پھر آپ اسے قتل کردیں گے‘ یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں وحی اتر چکی ہے‘ لہٰذا تو جا اور اسے لے آ۔‘‘ حضرت سہل نے کہا: پھر انہوں نے آپس میں لعان کیا۔ اس وقت بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ رسول اللہﷺ کے پاس موجود تھا۔ جب عویمر لعان سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر اب بھی میں اسے اپنے نکاح میں رکھوں تب تو گویا میں اس پر جھوٹ باندھا تھا۔ چنانچہ رسول اللہﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی انہوں نے اسے تین طلاقیں دے دیں۔ (۱) ’’آپ اسے قتل کردیں گے‘‘ کیونکہ کسی پر حد نافذ کرنا حکومت کا کام ہے۔ کوئی شخص اپنے طور پر حد نافذ نہیں کرسکتا‘ لہٰذا اگر کوئی اشتعال میں آکر بیوی کے ساتھ لیٹے ہوئے آدمی کو قتل کردے تو اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تو اسے قصاصاً قتل کردیا جائے گا‘ ورنہ تو لوگوں کے لیے قتل کا بہانہ بن جائے گا۔ البتہ آخرت میں اللہ تعالیٰ اس سے اپنے علم کے مطابق سلوک فرمائے گا‘ یعنی اگر مقتول واقعتا جرم زنا کا مرتکب تھا اور شادی شدہ تھا تو قاتل کو معافی مل جائے گی‘ ورنہ سزا ہوگی۔ (۲) ’’ناپسند فرمایا‘‘ کیونکہ آپ نے خیال فرمایا کہ یہ فرضی سوالات ہیں‘ کوئی ایسا واقعہ پیں نہیں آیا۔ اور فرضی سوالات کرنا قبیح بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تو علم تھا کہ حقیقتاً یہ واقعہ ہوچکا ہے‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وحی اتاری۔ (۳) ان شاء اللہ لعان کی تفصیل آگے آئے گی۔ (۴) ’’تین طلاقیں دے دیں‘‘ اور رسول اللہﷺ نے انہیں منع نہیں فرمایا۔ ظاہراً اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی دینا جائز نہیں۔ باقی رہا مسئلہ کہ عویمر نے تین طلاقیں دیں‘ تو ان کا یہ فعل ناواقفیت کی بنا پر تھا‘ لعان کے بعد اس کی ضرورت ہی نہیں تھی‘ اس لیے اس واقعے سے بہ یک وقت تین طلاقیں دینے کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔