سنن النسائي - حدیث 3429

كِتَابُ الطَّلَاقِ الطَّلَاقُ لِغَيْرِ الْعِدَّةِ وَمَا يُحْتَسَبُ مِنْهُ عَلَى الْمُطَلِّقِ صحيح أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا قُلْتُ لَهُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ مَهْ وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3429

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل غلط وقت کی طلاق شمار کی جائے گی حضرت یونس بن جبیر نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ (تو اب کیا کرے؟) فرمانے لگے: کیا تو عبداللہ بن عمر کو جانتا ہے؟ اس نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے نبیﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرے‘ پھر صحیح وقت میں نئے سرے سے طلاق دے۔ میں نے کہا: جب آدمی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دے تو کیا وہ طلاق شمار ہوگی؟ فرمایا: اور کیا؟ اگرچہ وہ صحیح وقت پر دینے سے عاجز رہا اور اس نے نادانی کا مظاہرہ کیا۔ جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ حیض کی طلاق باوجود جائز نہ ہونے کے شمار ہوگی۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی دلیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ میری طلاق کو ایک شمار کیا گیا۔ ’’حُسِبَتْ عَلَییِّ بِتَطْلِیقَۃٍ ‘‘اسی طرح نبیﷺ کا انہیں رجوع کے لیے فرمانا اور درمیان میں ایک طہر انتظار کرنا بھی اس مسلک کی تائید کرتا ہے۔ اگر طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تھی تو رجوع اور طہر کا انتظار کیا معنی رکھتا ہے۔ مندرجہ بالا روایات میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے شاگردوں کو فتویٰ بھی یہی دیا ہے‘ لہٰذا یہی مسلک صحیح ہے۔ امام ابن حزم اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول اس مسئلے میں شاذ ہے۔