سنن النسائي - حدیث 3412

كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ بَاب الْغَيْرَةِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ الْتَمَسْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي شَعْرِهِ فَقَالَ قَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ فَقُلْتُ أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ فَقَالَ بَلَى وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3412

کتاب: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان رشک اور جلن کا بیان حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ (رات کو) میں رسول اللہﷺ کو ڈھونڈنے لگی۔ تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے (سرکے) بالوں میں داخل کردیا۔ آپ نے فرمایا: ’’تیرے پاس تیرا شیطان آگیا؟‘‘ میں نے عرض کیا: کیا آپ کے لیے کوئی شیطان نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں؟ (میرے ساتھ بھی شیطان ہے) لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی ہے‘ لہٰذا میں (اس کے اثرات سے) محفوظ رہتا ہوں۔‘‘ (۱) رات کو گھروں میں اندھیرا ہوتا تھا۔ روشنی کا انتظام نہیں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہؓ کو آپ قریب محسوس نہ ہوئے تو انہوں نے ادھر ادھر ہاتھ مارنے شروع کردیے تاکہ آپ کو ٹٹولیں۔ انہیں وسوسہ ہوا کہ کہیں آپ اٹھ کر کسی اور بیوی کے گھر نہ چلے گئے ہوں۔ تبھی آپ نے شیطان کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ وسوسہ شیطان کی طرف سے تھا۔ (۲) ’’کیوں نہیں‘‘ فطری طور پر ہر انسان میں گناہ کا مادہ ہوتا ہے‘ قرآن کریم میں ہے: {فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا} (الشمس: ۹۱/ ۸) وہ شیطانی وساوس کی آماجگاہ ہے اور اس سے غلطی کا صدور ممکن ہے مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے انبیاءh اور خصوصاً خاتم النبینh کو شیطانی اثرات سے مکمل طور پر محفوظ فرمادیا تھا۔ ان کے معصوم ہونے کا بھی یہی مطلب ہے۔ (۳) ’’میں محفوظ رہتا ہوں‘‘ بعض حضرات نے ماضی کے معنی کیے ہیں ’’میرا شیطان میرا مطیع ہوگیا ہے‘‘ اس لیے وہ مجھے راہ راست سے ہٹانے کی قدرت نہیں رکھتا۔ واللہ اعلم۔