سنن النسائي - حدیث 3405

كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ حُبُّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنْ بَعْضٍ صحيح أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3405

کتاب: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان آدمی کا اپنی کسی ایک بیوی کو دوسری سے زیادہ چاہنا حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھے فرمایا: ’’جبریل علیہ السلام تجھے سلام کہہ رہے ہیں۔‘‘ میں نے جواباً کہا: (و علیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ) ’’ان پر بھی سلامتی‘ رحمتیں اور برکتیں ہوں۔‘‘ آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں کہ ہم نہیں دیکھتے۔ (۱) ’’ہم نہیں دیکھتے‘‘ مراد جبریل علیہ السلام ہیں جو رسول اللہﷺ کو نظر آرہے تھے مگر عائشہؓ کو نظر نہیں آرہے تھے۔ وحی کی کیفیت میں بھی ایسے ہی ہوتا تھا کہ آپ کو فرشہ نظر آرہا ہوتا تھا اور باقی لوگ نہیں دیکھ سکتے تھے۔ (۲) اجنبی مراد اجنبی صالحہ عورت کو سلام بھیج سکتا ہے جبکہ کسی مفسدے کا اندیشہ نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھ کر اس مسئلے کو ثابت کیا ہے: ]بَابُ تَسْلِیمِ الرِّجَالِ عَلیَ النِّسَائِ وَالنِّسَائِ عَلیٰ الرِّجَالِ[ حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ہم عورتوں کے پاس سے گزرے تو ہمیں سلام کیا۔ (سنن ابی داود‘ الادب‘ حدیث: ۵۲۰۴) اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ حضرت امام ہانی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آئی۔ آپ اس وقت غسل فرمارہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کہا۔ (صحیح البخاری‘ الصلاۃ‘ حدیث:۳۵۷)