سنن النسائي - حدیث 3402

كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ حُبُّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنْ بَعْضٍ صحيح أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رُمَيْثَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمْنَهَا أَنْ تُكَلِّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَتَقُولُ لَهُ إِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ فَكَلَّمَتْهُ فَلَمْ يُجِبْهَا فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا كَلَّمَتْهُ أَيْضًا فَلَمْ يُجِبْهَا وَقُلْنَ مَا رَدَّ عَلَيْكِ قَالَتْ لَمْ يُجِبْنِي قُلْنَ لَا تَدَعِيهِ حَتَّى يَرُدَّ عَلَيْكِ أَوْ تَنْظُرِينَ مَا يَقُولُ فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا كَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَّا فِي لِحَافِ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَانِ الْحَدِيثَانِ صَحِيحَانِ عَنْ عَبْدَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3402

کتاب: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان آدمی کا اپنی کسی ایک بیوی کو دوسری سے زیادہ چاہنا حضرت ام سلمہؓ سے راویت ہے کہ نبیﷺ کی بیویوں نے مجھ سے کہا کہ تم نبیﷺ سے بات کرو کہ لوگ قصداً حضرت عائشہؓ کی باری کے دن آپ کو تحفے بھیجتے ہیں۔ آپ سے کہو کہ حضرت عائشہ کی طرح ہم بھی اس فضیلت کی خواہش مند ہیں۔ میں نے اس بارے میں آپ سے بات کی۔ آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب آپ باری کے لحاظ سے میرے پاس آئے تو میں نے پھر بات کی۔ آپ نے پھر جواب نہ دیا۔ ازواج مطہرات نے مجھ سے پوچھا: آپ نے کیا جواب دیا؟ میں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ وہ کہنے لگیں: تم آپ سے بار بار یہ بات کرتی رہو حتیٰ کہ آپ جواب دیں۔ جب آپ دوبارہ میرے پاس آئے تو میں نے پھر یہی بات کہی۔ آپ نے فرمایا: ’’(ام سلمہ!) مجھے عائشہ کے بارے میں ستایا نہ کرو کیونکہ جب میں تم میں سے کسی کے لحاف میںہوتا ہوں تو عائشہ کے لحاف کے سوا مجھ پر کوئی وحی نہیں اتری۔‘‘ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ ) بیان کرتے ہیں کہ راوی عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ وضاحت: عبدہ سے دو قسم کی روایت ہے: ایک حضرت عائشہؓ کی اور دوسری حضرت ام سلمہؓ کی۔ امام صاحب کے فرمان کے مطابق روایت دونوں طرح درست ہے۔ واللہ اعلم۔ فوائدومسائل: (۱) یہ تفصیلی حدیث ہے جس سے سابقہ حدیث کا موقع محل معلوم ہوتا ہے۔ لوگوں کا قصداً حضرت عائشہؓ کی باری کے دن تحفے بھیجنا دراصل اس بنا پر تھا کہ لوگ جانتے تھے کہ آپ حضرت عائشہؓ کے ساتھ زیادہ محبت فرماتے ہیں اور وہاں تحفے بھیجنے آپ زیادہ خوش ہوں گے۔ ازواج مطہرات کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے گھروں میں بھی تحفے آنے چاہییں‘ اس لیے رسول اللہﷺ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ ہر جگہ تحفے بھیجیں۔ یا پھر ہم سب سے مساوی محبت فرمائیں تاکہ لوگ سب گھروں میں تحفے بھیجیں۔ (۲) ’’آپ نے کوئی جواب نہ دیا‘‘ کیونکہ لوگوں کو بذات خود تحفے بھیجنے کے لیے کہناتو شان نبوت کے منافی تھا۔ شرم وحیا مانع تھی۔ اور مساوی محبت ممکن نہ تھی‘ اس لیے کہ یہ غیر اختیاری چیز ہے جیسا کہ پیچھے گزرا۔