سنن النسائي - حدیث 3398

كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ حُبُّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنْ بَعْضٍ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا إِنَّ نِسَاءَكَ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبِّينِي قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَحِبِّيهَا قَالَتْ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ فَقُلْنَ لَهَا إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا وَكَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَزْوَاجُكَ أَرْسَلْنَنِي وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتِمُنِي فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي مِنْ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا قَالَتْ فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا وَلَا أَكْثَرَ صَدَقَةً وَلَا أَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3398

کتاب: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان آدمی کا اپنی کسی ایک بیوی کو دوسری سے زیادہ چاہنا حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں نبیﷺ کی (دوسری) ازواج مطہرات اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے حضرت فاطمہؓ کو نبیﷺ کی خدمت عالیہ میں بھیجا اور انہیں کہا: (آپ سے جا کر کہو) آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے سلسلے میں انصاف کی دہائی دیتی ہیں۔ حضرت عائشہؓ نبیﷺ کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ حضرت عائشہؓ کے ساتھ ان کی چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آکر آپ سے کہا: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے سلسلے میں انصاف کی دہائی دیتی ہیں۔ نبیﷺ نے انہیں فرمایا: ’’کیا تجھے مجھ سے محبت ہے؟‘‘ وہ کہنے لگیں: ضرور۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر تو اس (عائشہ) سے محبت رکھ۔‘‘ وہ ان کے پاس واپس چلی گئیں اور انہیں آپ کا جواب سنادیا۔ وہ کہنے لگیں: تم نے کچھ نہیں کیا‘ دوبارہ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں حضرت عائشہ کے مسئلے میں کبھی بھی آپ کے پاس دوبارہ نہیں جاؤں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی صحیح بیٹی تھیں‘ پھر انہوں نے حضرت زینب بنت حجشؓ کو بھیجا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ کی ازواج مطہرات میں سے یہی فرماتی ہیں کہ نبیﷺکی ازواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجئہ مطہرہ تھیں جو میرے برابر درجہ رکھتی تھیں۔ وہ آکر کہنے لگیں: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی بابت انصاف کی طلب گار ہیں‘ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوکر مجھے برابھلا کہنے لگیں۔ میں نبیﷺ کے حکم کا انتظار کرنے لگی۔ میں آپ کی آنکھ کی طرف دیکھ رہی تھی کہ آپ مجھے بدلہ لینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ وہ مجھے برا بھلا کہتی رہیں حتیٰ کہ مجھے اندازہ ہوگیا کہ اب اگر میں ان سے بدلہ لوں تو آپ نا پسند فرمائیں گے‘ پھر میں ان کی طرف متوجہ ہوکر انہیں جواب دینے لگی۔ تھوڑی دیر میں میں نے انہیں چپ کرادیا۔ نبیﷺ نے انہیں (چپ دیکھ کر) فرمایا: ’’یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میں نے کوئی عورت زینب سے بڑھ کر نیک‘ زیادہ صدقے کرنے والی‘ صلہ رحمی کرنے والی ہر اس کام میں اپنے آپ کو کھپا دینے والی جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاسکے‘ نہیں دیکھی مگر ان میں کچھ تیزی وترشی تھی جو جلد ہی ختم ہوجایا کرتی تھی۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت خطا ہے اور صحیح روایت پہلی ہے۔ وضاحت: مطلب یہ ہے کہ معمر کا عن زۃری عن عروہ کی سند سے بیان کرنا درست نہیں بلکہ صالح اور شعیب کی روایت صحیح ہے کہ یہ روایت عن زہری عن محمد بن عبدالرحمن عن عائشہ کی سند سے ہے۔ فوائدومسائل: (۱) حضرت فاطمہؓ کا حضرت عائشہؓ کو ’’ابوقحافہ کی بیٹی‘‘ کہنا دراصل ازواجِ مطہراتf کی طرف سے ہوبہو پیغام رسانی تھی‘ ورنہ وہ حضرت عائشہؓ کی شان میں سوء ادب کی مرتکب نہ ہوسکتی تھیں کیونکہ حضرت عائشہd تو ان کے لیے والدہ کے قائم مقام تھیں۔ باقی ازواج مطہراتf ان کے برابر کی تھیں‘ وہ انہیں کہہ سکتی تھیں۔ (۲) ’’آپ کی آنکھ کی طرف‘‘ اس انتظار میں کہ آپ آنکھ سے اشارہ فرمائیں گے مگر نبیﷺ آنکھ سے خفیہ اشارہ نہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ دوسرے فریق کے حق میں دھوکے کے ذیل میں آتا ہے۔ اور آپ اس سے پاک تھے…ﷺ… (۳) ’’صحیح بیٹی تھیں‘‘ یہ ایک محاورہ ہے۔‘ یعنی آپ سے محبت کرنے والی‘ آپ کا انتہائی ادب واحترام کرنے والی اور آپ جیسے اخلاق وعادات رکھنے والی۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔ (باقی تفصیلات پیچھے حدیث: ۳۳۹۶ میں گزر چکی ہیں۔)