سنن النسائي - حدیث 3387

كِتَابُ النِّكَاحِ الْفُرُشُ صحيح أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِأَهْلِهِ وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3387

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل بستر بھی دیے جاسکتے ہیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ایک بستر آدمی کے لیے‘ دوسرا اس کی بیوی کے لیے‘ تیسرا مہمان کے لیے اور چھوتھا شیطان کے لیے۔‘‘ "(۱) رخصتی کے موقع پر دیا جانے والا سامان مناسب ہونا چاہیے بشرطیکہ دینے کی استطاعت ہو‘ فالتو سامان جو ان کے استعمال میں بھی نہ آئیہ‘ نہیں دینا چاہیے۔ غلو کسی بھی چیز میں نقصان دہ ہے۔ مروجہ رسم جہیز بہت سی معاشرتی خرابیوں کا سبب بنتی ہے۔ انسان مقروض ہوجاتا ہے‘ رشتے نہیں ہوتے‘ غریب لوگ بے بس ہوجاتے ہیں‘ عورتیں گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں‘ بعد میں دنگا فساد بھی ہوتا ہے۔ (۲) ’’شیطان کے لیے‘‘ یعنی جو چیز استعمال میں نہیں آتی‘ وہ رکھنا حرام ہے۔ شیطانی کام ہے۔ اگر بچے ہو ں یا دوسرے افراد بھی ہوں تو ان کے لیے خواہ بس بستر ہوں‘ جائز ہیں کیونکہ وہ تو استعمال ہوتہے ہیں۔ ’’چوتھے‘‘ سے مراد غیر ضروری ہیں جو استعمال نہیں ہوتے۔ واللہ اعلم۔ (۳) ممکن ہے اس باب کا مقصود یہ ہو کہ گھر میں ایک سے زائد بستر رکھے جاسکتے ہیں بشرطیکہ وہ گھریلو افراد یا مہمانوں کے استعمال کے لیے ہوں‘ ورنہ ناجائز ہیں۔ "