سنن النسائي - حدیث 3379

كِتَابُ النِّكَاحِ الْبِنَاءُ فِي شَوَّالٍ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3379

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل شوال میں رخصتی کا بیان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے شوال میں نکاح فرمایا اور شوال میں ہی آپ کے ہاں میری رخصتی ہوئی۔ (بتاؤ!) پھر آپ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ہاں مجھ سے بڑھ کر محبت سے بہرہور ہوئی؟ (۱) دوجاہلیت میں لوگ شوال کے مہینے کو اس کے معنی کی وجہ سے منحوس قراردیتے تھے اور اس میں شادی وتعمیروغیرہ کو مناسب خیال نہ کرتے تھے‘ حالانکہ یہ صرف تو ہم ہے‘ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ مہینے کے نام کا اس کے دنوں پر کوئی اثر نہیں۔ اسلام ایسے توہمات کے خلاف ہے اور ان کی بنا پر معمولات میں روکاوٹ کو بدعقیدگی سمجھتا ہے۔ افسوس! آج کل مسلمان محرم کے بارے میں بھی ایسے ہی تصورات رکھتے ہیں۔ فالی اللہ المشتکی (۲) ’’شوال میںہی‘‘ نکاح اور رخصتی میں تین سال کا فاصلہ تھا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔ (۳) شوال کے معنی اور دیگر تفصیل کے لیے دیکھیے‘ حدیث: ۳۲۴۳۸ کے فوائد ومسائل۔