سنن النسائي - حدیث 3355

كِتَابُ النِّكَاحِ التَّزْوِيجُ عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ضعيف أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ح و أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ قَالَ سَمِعْتُ حَجَّاجًا يَقُولُ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطَاهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ اللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3355

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل سونے کے نواۃ کو مہر مقرر کرنا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبیﷺ نے فرمایا: ’’عورت کے ساتھ جس مہر پر نکاح کیا جائے یا جو عطیہ یا وعدہ نکاح سے پہلے دیا جائے‘ وہ سب کچھ عورت کا ہے۔ البتہ عقد نکاح کے بعد ملنے والا تحفہ اسی کا ہوگا جسے دیا جائے گا۔ اور وہ (بہترین) چیز جس کی وجہ سے کسی کی عزت کی جائے‘ اس کی بیٹی یا بہن ہے ( جو وہ کسی کے نکاح میں دے)۔‘‘ یہ الفاظ عبداللہ کے ہیں۔ اس روایت میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دواستاد ہیں: ہلال بن علاء اور عبداللہ بن محمد بن تمیم۔ بیان کردہ الفاظ عبداللہ کے ہیں۔ (۱) نکاح سے قبل جو کچھ تحائف دیے جاتے ہیں‘ وہ عورت کی خاطر ہوتے ہیں‘ لہٰذا وہ عورت کے لیے شمار ہوں گے‘ اگرچہ کسی کو بھی ملیں‘ البتہ نکاح کے بعد چونکہ نئے رشتے قائم ہوجاتے ہیں‘ لہٰذا جسے تحفہ ملے گا‘ اسی کا شمار ہوگا۔ (۲) کسی کو بیٹی یا بہن کا نکاح دینا بہت بڑا احسان ہے‘ لہٰذا بیوی کے باپ اور بھائی کا احترام لازماً ہے کیونکہ نکاح کا اختیار انہیں تھا۔ بیوی کے باپ کو تیسرا باپ کہا گیا ہے۔ پہلا حقیقی والد‘ دوسرا استاد اور تیسرا سسر۔ اسی طرح بیوی کی والدہ کا بھی احترام ضروری ہے۔ اسی بنا پر تو اس سے نکاح حرام کردیا گیا اور اس سے پردہ نہیں رکھا گیا۔ (۳) ظاہراً اس حدیث کا باب سے کوئی تعلق نہیں بنتا‘ الا یہ کہ کہا جائے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار نہیں