سنن النسائي - حدیث 3348

كِتَابُ النِّكَاحِ الْقِسْطُ فِي الْأَصْدِقَةِ صحيح أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنْ النِّسَاءِ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنْ الصَّدَاقِ فَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنْ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنْ النِّسَاءِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3348

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل مہر مقرر کرنے میں انصاف سے کام لینا حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا…} ’’اور اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تم یتیموں کی بابت انصاف نہیں کرسکو گے تو تم (دوسری) عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں۔‘‘ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھانجے! اس (آیت میں تتیموں) سے وہ یتیم بچی مراد ہے جو اپنے کسی سرپرست کے ہاں پرورش پارہی ہو۔ اور اس کے ساتھ اس کے مال میں شریک ہو۔ سرپرست کو اس کے مال وجمال سے دلچسپی ہو‘ اس لیے ا س سرپرست کا ارادہ ہو کہ اس (یتیم بچی) سے نکاح کرے (تاکہ اس کے مال پر قبضہ کرے) مگر مہر مقرر کرنے میں انصاف سے کام نہ لے‘ یعنی اسے اتنا مہر نہ دے جو کوئی دوسرا اسے سکتاہے۔ تو ایسے سرپرستوں کو روک دیا گیا کہ ان سے نکاح کریں الا یہ کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کریں اور انہیں ان کے مرتبے کے مطابق زیادہ مہر دیں ورنہ ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کریں جو انہیں پسند ہوں۔ حضرت عروہ نے کہا: حضرت عائشہؓ نے فرمایا: پھر اس کے بعد لوگوں نے ان یتیم بچیوں کی بابت رسول اللہﷺ سے استفسار کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری: {وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَائِ… وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ} ’’یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں‘ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بارے میں فتوی دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے‘ وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ’’جواللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ تم پر ان کے احکام کتاب اللہ میں پڑھے جاتے ہیں۔ اس سے مراد وہی پہلی آیت ہے: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْیَتَامیٰ…} اس سے مراد وہ یتیم بچی ہے جو اپنے سرپرست کے ہاں پرورش پارہی ہو جب کہ وہ مال وجمال کے لحاظ سے کم ہو۔ (ان کے طرز عمل کی وجہ سے) انہیں اس یتیم بچی کے ساتھ نکاح کرنے سے بھی روک دیا گیا جس کے مال وجمال میں ان کی دلچسپی تھی‘ مگر انصاف کے ساتھ کیونکہ وہ (مال وجمال کم ہونے کی صورت میں) ان سے کوئی دلچسپی نہ رکتھے تھے۔ (۱) راوئ حدیث حضرت عمروبن زبیر حضرت عائشہؓ کی بڑی ہمشیرہ حضرت اسمائؓ کے بیٹے تھے۔ رشتے میں ان کے بھانجے تھے۔ (۲) ’’پوچھا‘‘ کیونکہ ظاہراً شرط وجزا میں کوئی تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔ حضرت عائشہؓ نے ایسی تفصیل بیان فرمائی کہ نہ صرف اس آیت بلکہ دیگر متعلقہ آیات کا مطلب بھی واضح ہوگیا۔ جزاھا اللہ عنا خیر الجزائ۔ (۳) حضرت عائشہؓ کی اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی بچی کا والد فوت ہوجاتا ہے اور اس کے وارث چچا یااس کے بیٹے ہوتے تو وہ اس یتیم بچی کی بجائے اپنا مفاد مقدم جانتے۔ اگر تو مال وجمال وافر ہوتا تو اس سے نکاح میں پرجوش ہوتے مگراسے اس کے مرتبے کے مطابق مہر نہ دیتے کیونکہ اصل مقصد تو اس کا مال حاصل کرنا ہونا تھا۔ اور اگر مال وجمال کی کمی ہوتی تو پھر اس کی طرف منہ بھی نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کسی بھی حال میں یتیم بچیوں سے نکاح نہ کرو‘ خواہ وہ مال دار ہوں یا فقیر‘ بلکہ ان کا نکاح گھر سے باہر کرو تاکہ ان کا مال انہیں ملے وہ اپنا پورا مہر بھی حاصل کرسکیں۔ ہاں اگر سرپرست اور اولیاء دوسرے لوگوں کے برابر یا ان سے زیادہ مہر دیں تو وہ ان سے نکاح کرسکتے ہیں۔ (۴) معلوم ہوا کہ عورتوں کا مہر ان کی ذاتی اور خاندانی حیثیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے۔ کم مہر مقرر کرنا ان پر ظلم ہے کیونکہ مہر عورت کا حق ہے نہ کہ اولیاء کا۔ اولیاء اپنے حق میں رعایت کرسکتے ہیں‘ عورت کے حق میں نہیں۔ اس مسئلے میں انصاف چاہیے۔ نہ تو فخروریا کے لیے ان کی حیثیت سے زائد مقرر کیاجائے‘ نہ اپنے مفاد کے لیے ان کی حیثیت سے کم۔