سنن النسائي - حدیث 3344

كِتَابُ النِّكَاحِ التَّزْوِيجُ عَلَى الْعِتْقِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَشُعَيْبٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَهُ صَدَاقَهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3344

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل آزادی کے مہر مقرر کرکے نکاح کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت صفیہd کو آزاد فرمایا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قراردیا۔ احناف وغیرہ کے نزدیک یہ طریقہ درست نہیں۔ مذکورہ واقعے کو وہ رسول اللہﷺ کا خاصہ قرار دیتے ہیں‘ حالانکہ صحابہ کرامf نے اس سے تخصیص نہیں سمجھتی‘ نیز آزادی تو عموماً مال ہی سے ہوتی ہے‘ لہٰذا آزادی کا مہر بننا تو مالی منفعت بھی ہے۔ اس سے انکار عجیب بات ہے۔ خاصے کی نفی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے خود دوسرے لوگوں کے نکاح تعلیم قرآن کی شرط پر قراردیے تو آزادی کی شرط پر نکاح کیوں جائز نہیں ہوگا؟ خاصہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟