سنن النسائي - حدیث 3343

كِتَابُ النِّكَاحِ التَّزْوِيجُ عَلَى الْإِسْلَامِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ فَإِنْ تُسْلِمْ فَذَاكَ مَهْرِي وَمَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ فَأَسْلَمَ فَكَانَ ذَلِكَ مَهْرَهَا قَالَ ثَابِتٌ فَمَا سَمِعْتُ بِامْرَأَةٍ قَطُّ كَانَتْ أَكْرَمَ مَهْرًا مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ الْإِسْلَامَ فَدَخَلَ بِهَا فَوَلَدَتْ لَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3343

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل اسلام لانے کی شرط پر نکاح کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا: اے ابو طلحہ! اللہ کی قسم! تیرے جیسے شخص کا پیغام رد نہیں کیا جاسکتا لیکن تو کافر ہے اور میں اسلام لا چکی ہوں۔ میرے لیے تجھ سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر تو مسلمان ہوجائے تو یہی میرا مہر ہوگا اور میں تجھ سے اس کے علاوہ کوئی مہر نہ مانگوں گی۔ وہ مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام ہی حضرت ام سلیم کا مہر قرار پایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ثابت نے کہا: میںنے کسی اور عورت کے بارے میں نہیں سنا کہ اس کا مہر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے مہر اسلام سے بہتر ہو۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ زندگی گزاردی اور ان سے ان کے بچے بھی ہوئے۔ یہ حدیث صریح ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور مہر نہ تھا۔ گویا عورت راضی ہو تو اس قسم کی دینی منفعت بھی مہر بن سکتی ہے۔ مال ہونا کوئی ضروری نہیں۔