سنن النسائي - حدیث 3339

كِتَابُ النِّكَاحِ تَفْسِيرُ الشِّغَارِ صحيح أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ مَالِكٌ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3339

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل نکاح شغار کی تفسیر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور نکاح شغار یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شحص سے اپنی بیٹی کا نکاح کرید اس شرط پر کہ وہ بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردے گا اور ان دونوں نکاحوں میں کوئی مہر نہ ہو۔ (۱) ’’شغار یہ ہے‘‘ شغار کی یہ تفسیر اگرچہ خود رسول اللہﷺ یا کسی صحابی سے منقول نہیں بلکہ یہ حضرت ابن عمر کے شاگرد حضرت نافع سے منقول ہے‘ تاہم اس تفسیر سے نکاح شغار کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ وصہ سٹہ شغار کی ذیل میں نہیں آتا کیونکہ ان میں الگ الگ مہر مقرر ہوتا ہے‘ تاہم جہالت کی وجہ سے وٹہ سٹہ کی شادی کے نتائج بالعموم بہت غلط نکلتے ہیں‘ اس لیے اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ (۲) سنن ابوداود میں ایک واقعہ منقول ہے کہ دوشخصوں نے ایک دوسرے کی بیٹی سے نکاح کیا‘ اس کے بعد اس میں الفاظ ہیں: ] وَکاَناَ جَعَلاَ صَدَاقاً[ ’’اور ان دونوں نے حق مہر بھی مقرر کیاتھا۔‘‘ (سنن ابی داود‘ النکاح‘ حدیث: ۲۰۷۵) اس کے باوجود اس راویت میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مروان (اپنے گورنر) کو لکھا ہے کہ وہ ان دونوں کے درمیان تفریق کردایں کیونکہ یہ وہی شعار ہے جس سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے۔ اس روایت کی بنیاد پر بعض علماء نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ حق مہر ہو‘ تب بھی اس طرح کا مشروط نکاح (جس میں ایک دوسرے کی بیٹی یا نکاح کی شرط ہو) باطل ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ سنن ابو داود کی یہ روایت صحیح ابن حبان (الا حسان بترتیب صحیح ابن حبان: ۶/ ۱۸۰‘ وموارد الظمآن: ۴/۱۹۶) میں ] وَقَدْ کَانَا جَعَلاَہُ صَدَاقاً[ کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے‘ یعنی اس میں جعل کا مفعول اول بھی مذکور ہے۔ اس عبارت کی رُو سے معنی بنتے ہیں کہ ان دونوں نے اس مشروط نکاح ہی کو حق مہر بنا دیا تھا۔ اس ضمیر کے ساتھ اس روایت کے معنی بالکل صحیح ہوجاتے ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تفریق کرانے کی معقول وجہ بھی سامنے آجاتی ہے کہ یہ نکاح ممنوعہ شغار کا مصداق تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حکم تفریق بھی اس امر کا قرینہ ہے کہ یہاں ضمیر مفعول اول محذوف ہے اور روایت کے الفاظ ] جَعَلاَہُ[ ہی ہیں‘ نہ کہ ]جَعَلاَ[ (ضمیرمفعول کے بغیر) کیونکہ حق مہر کی ادائیگی کے باوجود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس نکاح کو باطل قراردینا ناقابل فہم ہے۔ واللہ اعلم۔