سنن النسائي - حدیث 3330

كِتَابُ النِّكَاحِ الْعَزْلِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ الزُّرَقِيَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَا قَدْ قُدِّرَ فِي الرَّحِمِ سَيَكُونُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3330

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل عزل کا بیان حضرت ابوسعید زرقی سے راویت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے غزل کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: میری بیوی بچے کے دودھ پلارہی ہے۔ میں پسند نہیں کرتا کہ اسے حمل ٹھہرے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’رحم کے بارے میں جو مقدر ہے‘ وہ تو ہوکر رہے گا (یا جس چیز کا رحم میں پہنچنا مقدر ہے وہ تو پہنچ کر رہے گی)‘‘۔ اس کے باوجود آپ نے عزل سے منع فرمایا کیونکہ اور اسباب کی طرح یہ بھی حمل نہ ٹھہرنے کا ایک سبب تو ہے جسے اختیار کیا جاسکتا ہے‘اگرچہ اصل فیصلہ تواللہ تعالیٰ کے ہاتھ میںہے۔