سنن النسائي - حدیث 3328

كِتَابُ النِّكَاحِ الْغِيلَةُ صحيح أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جُدَامَةَ بِنْتَ وَهْبٍ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنْ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ يَصْنَعُهُ وَقَالَ إِسْحَقُ يَصْنَعُونَهُ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3328

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل دودھ پلانے کی مدت میں جماع کرنا حضرت جدامہ بنت وہبؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میرا ارادہ تھا کہ میں لوگوں کو مدت رضاعت میں جماع کرنے سے روک دوں لیکن مجھے پتہ چلا کہ فارسی اور رومی یہ کام کرتے ہیں اور اس سے ان کے (دودھ پیتے) بچوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔‘‘ بچہ ابھی دودھ پتا ہو اور حمل ٹھہر جائے تو بعض دفعہ دودھ بچے کے لیے مضر بن جاتا ہے۔ دودھ چھڑانا پڑتا ہے ورنہ بچے کو اسہال لگ جاتے ہیں۔ اگر حمل نہ ٹھہرے تو صرف جماع سے دودھ کو نقصان نہیںپہنچتا۔ چونکہ ایسی حالت میں جماع حمل کا سبب بن سکتا ہے جس سے نقصان ہوگا‘ اس لیے اس فعل (غیلہ) سے روکا بھی جاسکتا ہے جیساکہ رسول اللہﷺ کا خیال تھا مگر چونکہ اس پابندی پر عمل کرنا خاوند کے لیاے تقریباً ناممکن ہے کہ وہ تقریباً دو سال تک اپنی بیوی سے جماع نہ کرے خصوصاً جبکہ بیوی بھی ایک ہو‘ اس لیے یہ پابندی مصلحت کے خلاف ہے اور لوگوں کو خوامخواہ آزمائش اور فتنے میں ڈالنے والی بات ہے‘ لہٰذا آپ نے یہ خیال چھوڑدیا۔ چنانچہ اب مدت رضاعت میں جماع کرنا جائز ہے۔