سنن النسائي - حدیث 3323

كِتَابُ النِّكَاحِ رَضَاعِ الْكَبِيرِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْوَزِيرِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى وَرَبِيعَةُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ قَالَ رَبِيعَةُ فَكَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3323

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل بڑی عمر والے کو دودھ پلانے کا بیان حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ نے حضرت ابو حذیفہؓ کی بیوی کو حکم دیا تھا کہ وہ سالم مولیٰ ابوحذیفہ کو دودھ پلادے تاکہ ابوحذیفہ کی غیرت (اس کے آنے جانے پر) نہ بھڑکے۔ انہوں نے اسے دودھ پلادیا‘ حالانکہ وہ پورا مرد تھا۔ ربیعہ راوی نے کہا: یہ (رخصت) حضرت سالم کے لیے تھی۔ یہ ربیعہ راوی کی رائے ہے۔ صحابہ میں سے اکثریت تخصیص ہی کی قائل ہے۔ اس کے برعکس سیدہ عائشہؓ کا موقف تخصیص کا نہیں بلکہ اشد ضرورت کے موقع پر جواز کا ہے۔ اب بھی اگر اس قسم کا مسئلہ پیش آئے تو اس رخصت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے مسئلہ حل ہوجائے جیسا کہ حضرت ابوحذیفہ کا مسئلہ حل ہوگیا تھا۔