سنن النسائي - حدیث 3318

كِتَابُ النِّكَاحِ لَبَنُ الْفَحْلِ صحيح أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْبَأَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ وَهُوَ عَمِّي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ائْذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3318

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل عورت کے دودھ میں خاوند کا بھی دخل ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ (میرے رضاعی والد) ابو العقیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ جبکہ وہ میرا رضاعی چچا تھا۔ میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کردیا‘ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ کو پوری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے اجازت دے دیا کرو بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے۔‘‘ یہ واقعہ پردے کا حکم اترنے کے بعد کا ہے۔ : چچا سے نکاح حرام ہے‘ لہٰذا اس سے پردہ نہیں۔وہ بھتیجی کے گھر میں آسکتا ہے مگر اجازت لے کر کیونکہ کسی کے گھر میں کوئی شخص بھی بلا اجازت نہیں داخل ہوسکتا۔ صرف خاوند اپنے گھر میں بلااجازت جاسکتا ہے۔