سنن النسائي - حدیث 3316

كِتَابُ النِّكَاحِ لَبَنُ الْفَحْلِ صحيح أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَ عَمِّي أَبُو الْجَعْدِ مِنْ الرَّضَاعَةِ فَرَدَدْتُهُ قَالَ وَقَالَ هِشَامٌ هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنِي لَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3316

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل عورت کے دودھ میں خاوند کا بھی دخل ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میرا رضاعی چچا ابوالجعد مجھے ملنے آیا مگر میں نے اسے گھر میں داخل نہ ہونے دیا۔ اور ہشام نے کہا: وہ ابوالقعیس تھا۔ رسول اللہﷺ گھر میں تشریف لائے تو میں نے آپ کو سارا واقعہ بتلایا۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے گھر میں آنے کی اجازت دو۔‘‘ رضاعی چچا دو قسم کا ہوسکتا ہے۔ رضاعی باپ کا سگا بھائی یا سگے باپ کا رضاعی بھائی۔ دونوں سے نکاح حرام ہے۔ حضرت عائشہؓ کی ان دوروایتوں میں سے ایک (۳۳۱۶) میں پہلا رضاعی چچا مراد ہوگا اور دوسری (۳۳۱۵) میں دوسری قسم کا ورنہ ایک ہی سوال دودفعہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ واللہ اعلم۔