سنن النسائي - حدیث 3302

كِتَابُ النِّكَاحِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ صحيح أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَرَّمَتْهُ الْوِلَادَةُ حَرَّمَهُ الرَّضَاعُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3302

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل رضاعت کی وجہ سے کون کون سے رشتے حرام ہوتے ہیں؟ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’جورشتے پیدائشی نسب کی وجہ سے حرام ہیں‘ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔‘‘ شریعت اسلامیہ نے رضاعت کو بھی نسبی رشتے کی طرح تقدس عطا کیا ہے۔ جس طرح نسبی لحاظ سے محترم رشتے نکاح کی لیے حرام قراردیے گئے ہیں‘ اسی طرح رضاعت کے لحاظ سے بھی رہی رشتے نکاح کے لیے حرام قررادیے گئے۔ البتہ یہ یادرہے کہ وہ رشتے دودھ پینے والے بچے پر ہی حرام ہوں گے‘ اس کے دیگر نسبی رشتہ داروں پر حرام نہیں ہوں گے‘ مثلاً دودھ پینے والی بچے پر اس کی رضاعی ماں اور بہن سے نکاح حرام ہے مگر اس بچے کے دیگر بھائیوں پر ان سے نکاح حرام نہیں کیا۔ گویا دودھ پینے والے پر تو اس کی رضاعی والدہ کا پورا خاندان حرام ہے مگر رضاعی ماں اور ا سکے خاندان پر بچے کا دیگر خاندان حرام نہیں۔