سنن النسائي - حدیث 33

ذِكْرُ الْفِطْرَةِ الْبَوْلُ فِي الطَّسْتِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا أَزْهَرُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ يَقُولُونَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى قَالَ الشَّيْخُ أَزْهَرُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 33

کتاب: امور فطرت کا بیان تھال جیسے برتن میں پیشاب کرنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو وصیت کی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر (اس سے قبل ہی) آپ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ (آپ فوت ہوگئے) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو پ نے کس کو وصیت کی؟ شیخ ابن سنی نے کہا، سند میں مذکور راوی ازہر سے مراد ازہر بن سعد سمان (گھی فروش) ہیں۔ (۱) [طست] ایک تھال کی طرح کا برتن ہوتا تھا جس کا پیندہ قریب ہوتا تھا اور منہ کھلا۔ اس قسم کے برتن میں پیشاب کرنے سے چھینٹے پڑنے کا احتمال ہوتا ہے، اس لیے یہ باب قائم فرمایا کہ اگر احتیاط سے پیشاب کیا جائے، چھینٹے نہ پڑیں تو کوئی حرج نہیں۔ (۲) اس حدیث میں وصیت سے وصیت خلافت مراد ہے جیسا کہ روا فض کا عقیدہ ہے، اسی لیے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’وصی‘‘ کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہے کہ وصیت تو وفات کے وقت ہوتی ہے اور اس وقت آپ کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ وہیں آپ کی وفات ہوئی۔ (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: ۱۳۸۹) لہٰذا وصیت کب کی؟ اور کس کو کی؟ یعنی آپ نے کوئی وصیت نہیں کی، نہ آپ کو اس کا موقع ہی ملا۔