سنن النسائي - حدیث 3285

كِتَابُ النِّكَاحِ النِّكَاحُ الَّذِي تَحِلُّ بِهِ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلَاقِي وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3285

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل کس نکاح کے ساتھ تین طلاقوں والی عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہوسکتی ہے؟ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ کی (سابقہ) بیوی نے رسول اللہﷺ کے پاس آکر کہا: رفاعہ نے مجھے طلاق دی اور طلاق بتہ (تیسری طلاق) دی۔ میں نے س کے بعد عبدالرحمان بن زبیر سے نکاح کرلیا مگر اس کے پاس تو کپڑے کے پلو (کنارے‘ یعنی مرادنہ کمزوری) کا سا معاملہ ہے۔ رسول اللہﷺ (اس کی اس تمثیل پر) مسکرائے اور فرمایا: ’’شاید تو دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے؟ تو نہیں جاسکتی حتیٰ کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہوا اور تو اس سے لطف اندوز ہو۔‘‘ (۱) ’’رفاعہ کی بیوی‘‘ یعنی جو پہلے رفاعہ کی بیوی تھی‘ ورنہ اس وقت تو وہ عبدالرحمن بن زبیر کے نکاح میں تھی۔ (۲) ’’تیسری طلاق‘‘ عربی مںی لفظ بتہ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں: قطعی طلاق‘ یعنی جس کے بعد رجوع کا امکان نہ ہو۔ اور وہ عام حالات میں تیسری طلاق ہوسکتی ہے۔ (۳) ’’پلو‘‘ یہ ان کی مرادنہ قوت کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔ کنایات میں عموماً مبالغہ آرائی ہوتی ہے ورنہ وہ کنایا نہیں ہوتا‘ لہٰذا ظاہر الفاظ مراد نہیں ہوتا‘ لہٰذا ظاہر الفاظ مراد نہیں ہوتے۔ صرف اشارہ کنایہ ہے۔ اس کی یہ شکایت درست نہ تھی کیونکہ نبی اکرمﷺ نے اسے رد کردیا تھا۔ صحیح بخاری میں یہ صراحت موجود ہے کہ خاوند کو بھی پتہ چل گیا کہ اس کی بیوی نے نبیﷺ کے پاس شکایت لے کر گئی ہے تو وہ بھی پہنچ گئے۔ اس کے ساتھ (دوسری بیوی سے) ان کے دو بیٹے تھے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! واللہ یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ میں تو اسے چمڑے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں (یعنی پوری قوت سے بھر پور جماع کرتا ہوں) لیکن یہ مجھے ناپسند کرتی ہے اور رفاعہ کی طرف واپس جانا چاہتی ہے… پھر نبی اکرمﷺ نے اس سے پوچھا کہ ’’یہ تیرے بیٹے ہیں؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپﷺ نے اس عورت سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’تو اس پر یہ الزام لگارہی ہے؟ حالانکہ اللہ کی قسم! اس کے بیٹے اپنے باپ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ مشابہت رکھتے ہیں جتنی ایک کوا دوسرے کوے سے رکھتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری‘ اللباس‘ حدیث: ۵۸۲۵) وہ عورت اپنے بیان کے مطابق پہلے خاوند کے نکاح میں نہیں جاسکتی تھی کیونکہ اس کے لیے دوسرے خاوند کا اس کے ساتھ جماع اور اس کے بعد طلاق دینا ضروری تھا۔ (۴) ’’لطف اندوز ہونا‘‘ تیسری طلاق کے بعد خاوندبیوی ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں‘ الا یہ کہ وہ عورت کسی اور شخص سے نکاح کرے‘ پھر ان میںبھی ناچاقی ہوجائے تو وہ عورت عدت کے بعد خاوند سے نکاح کرسکتی ہے بشرطیکہ دوسرا خاوند اس سے جماع کرچکا ہو۔ اگر جماع نہ ہوا ہو تو طلاق کے باوجود پہلے خاوند کے لیے نکاح نہ ہو گی۔‘‘ لطف اندوز ہو‘‘ میں اس طرف اشارہ ہے۔ (۵) آج کل ’’حلالہ‘‘ کے نام پر جو بے غیرتی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور عورتوں کو بھینسوں کی طرح کرائے کے ’’سانڈ‘‘ کے پاس لے جایا جاتا ہے‘ یہ امر سراسر شریعت کے خلاف ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس میں ملوث تمام اشخاص پر لعنت فرمائی ہے۔