سنن النسائي - حدیث 3282

كِتَابُ النِّكَاحِ الْكَلَامِ الَّذِي يَنْعَقِدُ بِهِ النِّكَاحُ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ثُمَّ قَامَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَأْ فِيهَا رَأْيَكَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ مَعَكَ شَيْءٌ قَالَ لَا قَالَ اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ فَطَلَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ قَالَ هَلْ مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا قَالَ قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3282

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل اس کلام کا بیان جس سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبیﷺ کے ہاں کچھ لوگوں میں بیٹھا تھا کہ ایک عورت آکر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کے نکاح کے لیے پیش کرتی ہوں۔ آپ میرے بارے میں جو مناسب سمجھیں فیصلہ فرمائیں۔ آپ چپ ہوگئے اور اسے کچھ جواب نہ دیا۔ وہ دوبارہ کھڑی ہوکر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے آپ کو آپ کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کرتی ہوں۔ آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں۔ (آپ چپ رہے تو) ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! (اگر آپ کو ضرورت نہیں تو) اس عورت کا نکاح مجھ سے فرمادیجیے۔ آپ نے فرمایا: ’’تیرے پاس (مہر وغیرہ کے لیے) کوئی چیز ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’جاؤ‘ تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔‘‘ وہ گیا‘ تلاش کے بعد واپس آگیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی چیز نہیں ملی‘ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’تجھے قرآن یاد ہے۔‘‘اس نے کہا: جی ہاں! مجھے فلاں فلاں سورتیں حفظ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’میں نے قرآن مجید کی سورتوں (کی تعلیم) کے عوض تیرا س سے نکاح کردیا۔‘‘ معلوم ہوا جو الفاظ ایجاب وقبول پر دلالت کرتے ہوں‘ ان سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ اس نے کہا: میرا اس سے نکاح فرمادیں۔ آپ نے فرمایا: ’’میںنے تیرا نکاح کردیا۔‘‘ یہ ایجاب وقبول ہے۔ ایجاب خاوند یا بیوی کسی طرف سے ہوسکتا ہے۔ اسی طرح قبول بھی۔ ایک فریق ایجاب کرے‘ دوسرا قبول۔ مناسب ہے کہ یہ ایجاب وقبول گوہوں کے سامنے علانیہ کروایا جائے۔ (باقی تفصیلات کے لیے دیکھیے‘ حدیث: ۳۲۰۲)