سنن النسائي - حدیث 3257

كِتَابُ النِّكَاحِ إِنْكَاحُ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ الصَّغِيرَةَ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3257

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل آدمی اپنی نابالغ بیٹی کا نکاح کرسکتا ہے حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان سے نکاح فرمایا تو وہ چھ سال کی تھیں اور انہیں اپنے گھر بسایا تو نو سال کی تھیں۔ (۱) نابالغ بیٹی کا نکاح کرنے میں کوئی اختلاف نہیں‘ البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ بلوغت کے وقت اس کی بیٹی کو نکاح کے قائم رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟ باپ کے علاوہ کوئی اور ولی نابالغ بچی کا نکاح کروائے تو بلوغت کے وقت لڑکی کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ اس پر اتفاق ہے۔ حدیث کی رو سے پہلی صورت میں بھی اختیار ہے‘ یعنی جب ناپ نے نکاح کروایا ہو۔ (۲) بعض حضرات کو تعجب ہے کہ نو سال کی بچی کے ساتھ شب بسری کس طرح ممکن ہے؟ اور وہ بھی پچپن سالہ آدمی کی؟ حالانکہ ا س میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اگر لڑکی نو سال کی عمر میں بالغ ہوجائے تو اس کے ساتھ شب بسری میں کون سی قانونی یا اخلاقی رکاوٹ ہے؟ جسمانی طور پر بیس سالہ نوجوان یا پچپن سالہ آدمی کے جماع میں کوئی فرق نہیں۔ بلوغت کے لیے کوئی مخصوص عمر مقرر نہیں اس میں آب وہوا اور خوراک کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس بنا پر مختلف علاقوں میں بلوغت کی عمر مختلف ہے‘ لہٰذا اس پر تعجب کرنے والے خود قابل تعجب ہیں۔ ایسے لوگوں کی بنا پر صحیح احادیث کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔