سنن النسائي - حدیث 3254

كِتَابُ النِّكَاحِ صَلَاةُ الْمَرْأَةِ إِذَا خُطِبَتْ وَاسْتِخَارَتُهَا رَبَّهَا صحيح أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْكَحَنِي مِنْ السَّمَاءِ وَفِيهَا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3254

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل جب عورت کو نکاح کا پیغام آئے تو وہ نماز پڑھ کر اپنے رب سے استخارہ کرے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت حجشؓ نبیﷺ کی دوسری ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمانوں پر فرمایا‘ نیز ان کے بارے میں پردے والی آیت اتری۔ (۱) قرآن مجید کے ظاہر الفاظ {زَوَّجْنٰکَھَا} دلالت کرتے ہیں کہ ان کا نکاح زمین پر نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ سے ہی نکاح کا انعقاد ہوگیا۔ علاوہ ازیں ان کے الگ نکاح کا صراحتاً ذکر بھی نہیں۔ اس اعتبار سے حضرت زیدؓ کا یہ فخر بجا تھا کہ ان کا نکاح آسمانوں پر ہوا ہے‘ جبکہ دوسری ازواج کا نکاح ان کا اولیاء نے اپنی مرضی سے کیا۔ اور یہ واقعتا فخر کی بات ہے۔ (۲) ’’پردے والی آیت‘‘ اس سے سورئہ احزاب کی آیت مراد ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ…} (الأحزاب ۳۳:۵۳)