سنن النسائي - حدیث 3252

كِتَابُ النِّكَاحِ عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى مَنْ تَرْضَى صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَتْ ابْنَةُ أَنَسٍ فَقَالَتْ مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا فَقَالَ أَنَسٌ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3252

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل عورت کا از خود کسی نیک آدمی کو نکاح کی پیش کش کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نے نبیﷺ کو نکاح کی پیش کش کی۔ (یہ سن کر) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی ہنسنے لگی اور کہا: وہ عورت کس قدر کم حیا والی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: وہ تجھ سے زیادہ بہتر تھی کہ اس نے نبیﷺ کو نکاح کی پیش کش کی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی محترمہ نے شاید مذکورہ بالا علت پر غور نہیں کیا‘ ورنہ اپنے نکاح کی بات کرنا ’’بے حیائی‘‘ نہیں خصوصاً رسول اللہﷺ کے ساتھ جو کہ اس کے قانوی اور شرعی ولی تھے۔ اور پھر نبی اکرمﷺ سے نکاح کی خواہش تو انتہائی نیک خواہش ہے کہ دنیا میںرسول اللہﷺ کی خدمت‘ آپ سے حصول تربیت اور حرم نبوی میں شمولیت جیسے فوائد وفضائل حاصل ہوں گے اور جنت میں ہمیشہ کے لیے آپ کا ساتھ نصیب ہوگا۔ اس سے بڑی سعادت اور کی حاصل ہوکتی ہے؟ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔