سنن النسائي - حدیث 324

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَاب فِيمَنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ وَلَا الصَّعِيدَ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَنَاسًا يَطْلُبُونَ قِلَادَةً كَانَتْ لِعَائِشَةَ نَسِيَتْهَا فِي مَنْزِلٍ نَزَلَتْهُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 324

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ جو آدمی پانی پائے نہ مٹی(تو کیا کرے؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسید بن حضیر اور کچھ دوسرے لوگوں کو عائشہ کے ہار کی تلاش میں بھیجا جسے وہ اپنی منزل میں بھول گئی تھیں۔ نماز کا وقت ہوگیا جب کہ ان (لوگوں) کا وضو نہیں تھا۔ وہ پانی نہ پاسکے تو انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ پھر انھوں نے اس بات کا ذکر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتار دی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ پسند نہ کرتی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے خیر رکھ دی۔ (۱) امام صاحب کا استدلال یہ ہے کہ صحابہ نے پانی نہ ملنے کی صورت میں بلاوضو نماز پڑھی اور آپ نے انکار نہیں فرمایا۔ اب تیمم کا حکم آنے کے بعد اگر مٹی بھی نہ ملے تو صحابہ کے طرزِ عمل کی روشنی میں وضو اور تیمم کے بغیر نماز پڑھ لیں گے اور یہ مسلک ہے امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ کا، البتہ امام شافعی رحمہ اللہ اسی کو کافی سمجھتے ہیں۔ اور یہی موقف درست ہے۔ اس کے بخلاف امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس صورت میں نماز نہ پڑھنے کے قائل ہیں۔ جب پانی یا مٹی ملے، پھر نماز پڑھی جائے گی، جبکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تو پڑھ لی تھی اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انھیں برقرار بھی رکھا۔ امام مالک وقت کے بعد ضروری نہیں سمجھتے۔ (۲) یہ حدیث پیچھے بھی گزری ہے، مگر اس میں بلاوضو نماز پڑھنے کا ذکر نہیں۔ (دیکھیے، حدیث: ۳۱۱)