سنن النسائي - حدیث 3239

كِتَابُ النِّكَاحِ الْخِطْبَةُ فِي النِّكَاحِ صحيح أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ الشَّعْبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ وَكَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ قَالَتْ خَطَبَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَوْلَاهُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ فَلَمَّا كَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَمْرِي بِيَدِكَ فَانْكِحْنِي مَنْ شِئْتَ فَقَالَ انْطَلِقِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ وَأُمُّ شَرِيكٍ امْرَأَةٌ غَنِيَّةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَظِيمَةُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ عَلَيْهَا الضِّيفَانُ فَقُلْتُ سَأَفْعَلُ قَالَ لَا تَفْعَلِي فَإِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ كَثِيرَةُ الضِّيفَانِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَنْكِ خِمَارُكِ أَوْ يَنْكَشِفَ الثَّوْبُ عَنْ سَاقَيْكِ فَيَرَى الْقَوْمُ مِنْكِ بَعْضَ مَا تَكْرَهِينَ وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ فَانْتَقَلْتُ إِلَيْهِ مُخْتَصَرٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3239

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل نکاح کے لیے پیغام بھیجنے کا بیان حضرت فاطمہ بنت قیسؓ سے مروی ہے جو کہ اولین مہاجر عورتوں میں سے تھیں‘ کہتی ہیں: مجھے عبدالرحمن بن عوف اور چند دوسرے صحابہ نے شادی کا پیغام بھیجا لیکن رسول اللہﷺ نے مجھے آزاد کردہ غلام حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے طلب فرمایا۔ اور اس سے پہلے میں یہ سن چکی تھی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے‘ وہ اسامہ سے محبت رکھے۔‘‘ چنانچہ جب رسول اللہﷺ نے مجھ سے اس بارے میں بات فرمائی تو میں نے عرض کیا: میرے بارے میں آپ کو کلی اختیار حاصل ہے۔ آپ جس سے پسند فرمائیں‘ میرا نکاح فرمادیں۔ آپ نے فرمایا: ’’تم ام شریک رضی اللہ عنہ کے گھر چلی جاؤ۔‘‘ حضرت ام شریک رضی اللہ عنہ مال دار انصاری خاتون تھیں اور اللہ تعالیٰـ کے راستے میں بہت کچھ خرچ کیا کرتی تھیں۔ ان کے ہاں (بہت) مہمان آیا کرتے تھے۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں چلی جاؤں گی۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’تو ایسے نہ کرنا کیونکہ ام شریک کے گھر تو اکثر مہمان آتے رہتے ہیں۔ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ تیرے سرسے اوڑھنی سرک جائے یا تیری پنڈلیوں سے کپڑا ہٹ جائے‘ پھر لوگ تجھے (کھلے بدن) دیکھیں گے تو تجھے یہ ناپسند ہوگا‘ اس لیے تو اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہوجا۔ اور وہ بنی فہر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ مین ان کے ہاں منتقل ہوگئی۔ روایت مختصر ہے۔ (1) نکاح کا بھیجنا کوئی معیوب بات نہیں اور نہ کسی کو اس پر ناراض ہونا چاہیے۔ جب تک کوئی چیز طلب نہ کی جائے‘ وہ کیسے مل سکے گی؟ البتہ پیغام عورت کے ولی کو بھیجا جائے۔ بیوہ کو براہ راست بھی پیغام بھیجا سکتا ہے۔ وہ اپنے اولیاء کے مشورے سے جواب دے گی۔ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کو آخری طلاق ہوگئی اور عدت ختم ہوچکی تھی۔ دوران عدت شادی کا پیغام ممنوع ہے۔ حدیث کی ترتیب میں فرق ہے۔ (2) مال دار خاتون‘‘ یہ ترجمہ ہے غنیۃ کا۔ بعض نسخوں میں لفظ عتیۃ ہے‘ یعنی بوڑھی خاتون تھیں۔ یہ معنی بھی صحیح ہیں۔ تبھی تو ان کے پاس اجنبی مہمان آکر کھڑے تھے۔ اور وہ انہیں کھانا کھلاتی تھیں۔