سنن النسائي - حدیث 3222

كِتَابُ النِّكَاحِ نِكَاحُ الْأَبْكَارِ صحيح أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا جَابِرُ هَلْ أَصَبْتَ امْرَأَةً بَعْدِي قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ أَيِّمًا قُلْتُ أَيِّمًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3222

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل کنواری عورتوں سے شادی کرنے کا بیان حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ مجھے ملے اور کہنے لگے: ’’جابر! تو نے میرے بعد (میری عدم موجوگی میں) شادی کرلی ہے؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں‘ اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ’’کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے‘‘ میں نے کہا: بیوہ سے۔ آپ نے فرمایا: ’’کنواری سے کیوں نہ شادی کی۔ وہ تجھ سے جی بھر کر پیار کرتی۔‘‘ 1) تفصیلی روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیوہ سے شادی کرنے کی وجہ بھی بیان کی ہے والدین فوت ہوچکے تھے اور گھر میں سات یا نو بہنیں تھیں۔ ان کی تربیت اور دیکھ بھال کے لیے تجربہ کار عورت چاہیے تھی۔ اس حسن نیت پر رسول اللہﷺ نے برکت کی دعا فرمائی تھی۔ (صحیح البخاری‘ النفقات‘ حدیث: ۵۳۶۷‘ وصحیح مسلم‘ الرضاع‘ حدیث: ۷۱۵) (2) امام کو اپنے مقتدیوں کی خیر خبر رکھنی چاہیے۔ (3) جب ایک کام میں دو مصلحتیں باہم متضاد ہوں تو ان میں سے زیادہ اہم ہو اسے اختیار کرنا چاہیے۔