سنن النسائي - حدیث 3209

كِتَابُ النِّكَاحِ الْحَثُّ عَلَى النِّكَاحِ صحيح أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3209

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل نکاح کی ترغیب کا بیان حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ میں ایک نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی کردوں؟ تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو (یعنی مجھے) بلالیا‘ پھر بیان فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے (نوجوانوں سے) فرمایا تھا: ’’تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھے‘ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو زیادہ جھکا دینے والا اور شرم گاہ کو زیادہ محفوظ کردینے ولا ہے۔ اور جو شخص نکا ح کی طاقت نہ رکھے‘ وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو کچل دے گا۔‘‘ (1) ’’علقمہ کو بلالیا‘‘ دراصل حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ور حضرت علقمہ اکٹھے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو علیحدگی میں بلا کر مندرجہ بالا پیش کش کی۔ جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا کہ یہ کوئی راز کی بات نہیں تو علقمہ کو دوبار ہ بلالیا تاکہ وہ رسول اللہﷺکا فرمان سن سکیں۔ (2) اس حدیث میںنکاح کی طاقت سے مراد مالی طاقت ہے‘ نہ کہ جسمانی۔ ورنہ دوسری صورت میں روزے کی کیا ضرورت ہے؟