سنن النسائي - حدیث 3206

كِتَابُ النِّكَاحِ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَرَّمَهُ عَلَى خَلْقِهِ لِيَزِيدَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قُرْبَةً إِلَيْهِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3206

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل ان چیزوں کا بیان جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر فرض فرمائیں اور دوسرے لوگوں پر حرام‘ تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید اپنا قرب نصیب فرمائے‘ ان شاء اللہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کی وفات سے پہلے آپ کو مزید عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ جب رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات مندرجہ بالا اختیار والے امتحان میں سوفیصد کامیاب ثابت ہوئیں تو ان کی عظمت شان کے اظہار کے لیے آپﷺ کو منع فرمادیا گیا کہ آپ ان میں سے کسی کو طلاق دیں‘ یا ان کے علاوہ کسی اور عورت سے نکاح کریں‘ مگر چونکہ مقصد آپ پر پابندی لگانا نہیں تھا بلکہ مقصد ازواج مطہرات کی عظمت ظاہر کرنا تھا‘ لہٰذا کچھ وقت گزارنے کے بعد صراحت فرمادی گئی کہ نکاح وطلاق کے مسئلے میں آپ پر کوئی پابندی نہیں جسے چاہیں رکھیں‘ جسے چاہیں طلاق دیں اور جس سے چاہیں نکاح فرمائیں۔ مگر رسول اللہﷺ نے اختیار کو استعمال نہیں فرمایا بلکہ ان بیویوں ہی کو قائم رکھا اور ان کی عزت وافزائی فرمائی۔ﷺ۔