سنن النسائي - حدیث 3199

كِتَابُ النِّكَاحِ ذِكْرُ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النِّكَاحِ وَأَزْوَاجِهِ، وَمَا أَبَاحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَظَّرَهُ عَلَى خَلْقِهِ، زِيَادَةً فِي كَرَامَتِهِ، وَتَنْبِيهًا لِفَضِيلَتِهِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يُصِيبُهُنَّ إِلَّا سَوْدَةَ فَإِنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3199

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل نکاح اور بیویوں کے بارے میں رسول اللہ کی خصوصی حیثیت وشان اور اس چیز کا بیان جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے حلال کی ہے اور دوسرے لوگو ں پر ممنوع قراردی ہے تاکہ آپ عظیم الشان مرتبہ اور فضیلت ظاہر ہو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ فوت ہوئے تو آپ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں۔ آپ ان سب کے پاس شب بسری فرماتے تھے‘ علاوہ حضرت سودہؓ کے کہ انہوں نے اپنی باری کا دن رات حضرت عائشہؓ کے لیے ہبہ فرمادیا تھا۔ اگر کوئی شخص برضا ورغبت اپنے حق سے دستبردار ہوتو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ حضرت سودہؓ کا معاملہ بھی اسیا ہی تھا‘ انہوں نے نبیﷺ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو ہبہ فرمادی جو آپ کی تمام بیویوں میں آپ کو سب سے زیادہ عزیز تھیں۔ یاد رہے رسول اللہﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس دن کو آتے جاتے تھے۔ ان کی تمام ضروریات کا خیال اور انتظام فرماتے تھے۔ سفر میں انہیں بھی ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ گویا سوائے شب بسری کے ان کے ساتھ بھر پور تعلقات تھے۔