سنن النسائي - حدیث 3178

كِتَابُ الْجِهَادِ غَزْوَةُ التُّرْكِ وَالْحَبَشَةِ حسن أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٍ مِنْ الْمُحَرَّرِينَ عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَهُمْ صَخْرَةٌ حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ نَاحِيَةَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَائِمٌ يَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرْقَةٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ وَقَالَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَآهَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ وَقَالَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِي وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ حِينَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَةً إِلَّا كَانَتْ مَعَهَا بَرْقَةٌ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا سَلْمَانُ رَأَيْتَ ذَلِكَ فَقَالَ إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنِّي حِينَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الْأُولَى رُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ كِسْرَى وَمَا حَوْلَهَا وَمَدَائِنُ كَثِيرَةٌ حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ قَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الثَّانِيَةَ فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ قَيْصَرَ وَمَا حَوْلَهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَةَ فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ الْحَبَشَةِ وَمَا حَوْلَهَا مِنْ الْقُرَى حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3178

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل ترکوں اور حبشیوں سے جنگ نبیﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک ایسی چٹان لوگوں کے سامنے آئی جو لوگوں اور (خندق کی) کھدائی کے درمیان رکاوٹ بن گئی۔ رسول اللہﷺ اٹھے‘ کدال پکڑی اور اپنی چادر خندق کے کنارے رکھ دی اور یہ آیت پڑھ کر ضرب لگائی: {وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَّعَدْلاً …وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ} ’’اور پوری ہوئی تیری رب کی بات سچائی اور انصاف کے لحاظ سے۔ کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں۔ اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (آپ کی ضرب سے) پتھر کا تیسرا حصہ اڑ گیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہﷺ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی۔ پھر آپ نے دوبارہ ضرب لگائی اور وہی آیت پڑھی: {وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَّعَدْلاً …وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ} ’’اور پوری ہوئی تیری رب کی بات صدق وانصاف کے لحاظ سے‘ کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں۔ اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ اور مزید تیسرا حصہ ٹوٹ گیا‘ پھر ایک چمک پیدا ہوئی جسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیکھا۔ پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور یہی آیت پڑھی: {وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَّعَدْلاً …وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ} ’’اور پوری ہوئی تیری رب کی بات سچائی اور انصاف کے لحاظ سے۔ کوئی اس کی باتوں کو بدلنے والا نہیں۔ اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ اور باقی پتھر بھی ریزہ ریزہ ہوگیا۔ رسول اللہﷺ خندق سے نکلے‘ اپنی چادر اٹھا ئی اور بیٹھ گئے۔ سلمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! جب آپ ضربیں لگارہے تھے تو اس کے ساتھ چمک پیدا ہوتی تھی۔ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: ’’سلمان! تو نے وہ (چمک) دیکھی تھی؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنایا۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’میں نے جب پہلی ضرب لگائی تھی تو مجھے کسریٰ کے شہر اور اردگرد کے بہت سے دوسرے شہر دکھائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیلھا۔‘‘ آپ کے پاس موجود صحابہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ یہ شہر ہم پر فتح فرمائے اور ان کے گھر ہمیں غنیمت میں عنایت فرمائے۔ اور ہمارے ہاتھوں ان کے علاقے تاراج فرمائے۔ رسول اللہﷺ نے یہ دعا فرمائی۔ (آپ نے فرمایا:) ’’جب میں نے پھر دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اردگرد کے بہت سے شہر دکھا ئے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ یہ علاقے ہمارے لیے فتح فرمائے۔ ان کے گھر ہمیں غنیمت میں عطا فرمائے اور ان کے علاقے ہمارے ہاتھوں تاراج فرمائے۔ رسول اللہﷺ نے ہی دعا بھی فرمائی۔ (آپ نے فرمایا:) ’’پھر میںنے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اردگرد کے بہت سے شہر دکھلائے گئے تو مجھے حبشہ اور اردگرد کے بہت سے شہر دکھلائے گئے حتیٰ کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘‘ اس وقت رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’حبشیوں کو اپنے حال پر رہنے دو جب تک وہ تمہیں تمہارے حال پر رہنے دیں اور ترکوں کو کچھ نہ کہو جب تک وہ تمہیں کچھ نہ کہیں۔‘‘ (1) ’’ایک صحابی‘‘ معلوم یوں ہوتا ہے کہ وہ صحابی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ واللہ اعلم۔ (2) تینوں ضربیں لگاتے وقت مندرجہ بالا آیت پڑھنے کا مقصید یہ ہے کہ دین اسلام کا غلبہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے اور یہ ہوکررہے گا۔ کوئی اسے بدل نہیں سکے گا۔ (3) ’’چمک‘‘ بسا اوقات سخت ضرب کی وجہ سے چنگاریاں اڑتی ہیں۔ ظاہر ہے یہاں چمک سے یہ چنگاریاں مرا دنہیں کیونکہ نبیﷺ نے تعجب فرمایا کہ سلمان رضی اللہ عنہ کو وہ چمک کیسے نظر آگئی‘ جب کہ چنگاریاں ہر موجود شخص کو نظر آتی ہے۔ یہ کوئی غیبی چیز تھی جو رسول اللہﷺ کو دکھلائی گئی۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو وہ چمک تو نظر آئی مگر اس چمک کا مقصود معلوم نہ ہوا کیونکہ مقصود آپ کے لیے تھا۔ فوائدومسائل: (4) ’’کسریٰ‘‘ ایران کے بادشاہ کو خسرو کہتے تھے۔ عربوں نے اسے کسریٰ بنالیا۔ (5) ’’قیصر‘‘ رومیوں کے بادشاہ کا لقب تھا۔ (6) ’’حبشہ‘‘ اس ملک پر آپ نے حملہ کرنے سے روکا‘ اس کی ایک وجہ بظاہر یہ ہوسکتی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو ابتدائی مشکل دور میں پناہ مہیا کی تھی۔ اور اس ملک کا بادشاہ سب سے پہلے مسلمان ہوا۔ دوسری وجہ شاحین یہ بیان کی ہے کہ یہ علاقہ بہت دوردراز کا تھا‘ درمیان میں دشوار گزار کا جنگلات اور پہاڑ تھے‘ علاوہ ازیں سمندر میں بھی حائل تھے۔ اسی طرح ترکوں کا معاملہ تھا‘ یہ علاقہ ٹھنڈا تھا‘ جب کہ عرب گرم ملک ہے۔ ان دونوں علاقوں میںجا کر لڑنا مسلمانوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث تھا‘ اس لیے نبیﷺ نے ان دونوں علاقوں میں جا کرلڑنے سے منع فرمادیا‘ تاہم اس ممانعت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ضرورت داعی ہو تب بھی ان سے نہ لڑا جائے‘ نہ مسلمانوں ہی نے یہ مطلب لیا کیونکہ اس کا مطلب اگر یہ ہوتا تو خود نبیﷺ اولین غازیانِ قسطنطنیہ کے لیے بشارت سناتے نہ مسلمان ہی کبھی اُدھر کا رُخ کرتے۔ (7) چمک میں کسریٰ وقیصر کے شہر اور دیگرشہر دکھائے جانے کا مطلب ان علاقوں کی فتح ہے۔ اور واقعتا ایسے ہی ہوا۔ اور یہ رسول اللہﷺ کا معجزہ ہے۔