سنن النسائي - حدیث 3150

كِتَابُ الْجِهَادِ مَنْ كُلِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صحيح أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلَّا أَتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْحُهُ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3150

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوجائے حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہﷺ نے (شہدائے احد کے بارے میں) فرمایا تھا: ’’انہیں ان کے خون (آلودہ جسم اور کپڑوں) سمیت ڈھانپ کر دفن کرو کیونکہ جو زخم بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں لگتا ہے‘ وہ قیامت کے دن اس حالت میں ہوگا کہ اس سے خون بہہ رہا ہوگا۔ رنگ تو خون کا ہوگا مگر خوشبو کستوری کی ہوگی۔‘‘ 1) ’’کستوری جیسی‘‘ حقیقتاً کستوری بھی خون ہی ہوتی ہے۔ اگر دنیا میں خون اعلیٰ خوشبو میں تبدیل ہوسکتا ہے تو آخرت میں بدرجہ اولیٰ ایسا ہوگا۔ اس می ںکوئی اشکال نہیں۔ (1) شہید کو نہ تو غسل دیا جاتا ہے نہ اس کے خون آلودہ کپڑے اتارے جاتے ہیں تاکہ اس کا خون قیامت کے دن اس کے لیے اعزاز بن جائے‘ نیز ہر شخص پہچان لے کہ یہ فی سبیل اللہ شہید ہے‘ البتہ اس کے اوپر ایک کھلی چادر ڈال دی جاتی ہے جو اس کے سر اور پاؤں کو ڈھانپ لے۔ اگر چادر چھوٹی ہو تو سرڈھانپ دیا جائے۔ پاؤں ننگے رہ جائیں تو کوئی بات نہیں۔