سنن النسائي - حدیث 3149

كِتَابُ الْجِهَادِ مَنْ كُلِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3149

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوجائے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے… اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے … تووہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون تیزی سے بہہ رہا ہوگا۔ رنگ تو خون کا ہوگا مگر خوشبو کستوری کی ہوگی۔‘‘ 1) حدیث نمبر ۳۱۴۳ میں یہ الفاظ تھے: ’’رنگ تو زعفران کا ہوگا‘‘ دراصل زعفران کا اپنا رنگ خون کی طرح سرخ ہی ہوتا ہے‘ چونکہ زعفران قیمتی اور خوشبو دار چیز ہے‘ لہٰذا بطور اعزاز زعفران کی طرف نسبت کردی اور اس روایت میں اصل حقیقت بیان فرمادی۔ مفوہم میں کوئی فرق نہیں۔ واللہ اعلم۔ (2) ’’اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے‘‘ کیونک اس با ت کا تعلق نیت سے ہے اور نیت اللہ تعا لیٰ ہی جان سکتا ہے۔