سنن النسائي - حدیث 3129

كِتَابُ الْجِهَادِ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صحيح أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْخَاشِعِ الرَّاكِعِ السَّاجِدِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3129

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: ’’اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال، اور اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کون اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے‘ اس شخص کی طرح ہے جو مسلسل صیام وقیام کرتا رہے اور خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع وسجدہ کرتا رہے۔‘‘ ’’مسلسل‘‘ یعنی جب سے وہ جلاد کو نکلا ہے‘ اس کی واپسی تک کوئی شخص لگاتار روزے اور نماز کی حالت میں رہے۔ ایک لمحہ بھی سستی نہ کرے۔ ظاہر ہے یہ ممکن نہیں ہے۔ گویا جہاد کے برابر کوئی اور عمل نہیں۔ یا اسی فرضی صورت کا جو ثواب فرض کیا جائے گا‘ وہ مجاہد کو ملے گا بشرطیکہ خالصتاً لوجہ اللہ جہاد کررہا ہو۔