سنن النسائي - حدیث 3123

كِتَابُ الْجِهَادِ الْغُزَاةِ وَفْدُ اللَّهِ تَعَالَى صحيح أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ الْغَازِي وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3123

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل جہاد کو جانے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تین شخص اللہ تعالیٰ کے خصوصی مہمان ہیں: جنگ کو جانے والا‘ حج کو جانے والا اور عمرے کو جانے والا۔‘‘ : چونکہ یہ تینوں خالص اللہ کی رضا کے لیے اپنا پیشہ خرچ کرکے اور لمبے سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے جاتے ہیں‘ اس لیے انہیں اللہ تعالیٰ کے مہمان فرمایا گیا۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہوتا ہے