سنن النسائي - حدیث 3118

كِتَابُ الْجِهَادِ ثَوَابُ مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صحيح أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3118

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل اس شخص کی فضیلت جس کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوں حضرت یزید بن ابی مریم بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے لیے پیدل جارہا تھا کہ مجھے حضژرت عبایہ بن رافع آملے۔ کہنے لگے: خوش ہوجاؤ کیونکہ تیرے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں اور میں نے حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ روسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کے قدم اللہ تعالیٰ کے راستے میں غبار آلود ہوجائیں‘ وہ شخص آگ پر حرام ہے۔‘‘ (1) اس روایت میں فی سبیل اللہ عام معنی میں استعمال کیا گیا ہے‘ یعنی ہر نیکی کا کام۔ لغت کے لحاظ سے یہی درست ہے مگر شرعی ا صطلاح لغت سے زیادہ معتبر ہوتی ہے اور قرآن وحدیث میں فی سبیل اللہ کا لفظ بالعموم جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (2) ’’حرام ہے‘‘ بشرطیکہ اس نے کوئی ایسا گناہ نہ کیا ہو جو قابل معافی نہ ہو یا وہ حقوق العباد میں گرفتار نہ ہو کیونکہ حقوق العباد نیکیوں کو ختم کردیتے ہیں۔ ممکن ہے جہاد کا ثواب اس قدر زیادہ ہو کہ وہ تمام حقوق العباد کی ادائیگی کے بعد بھی نجات اوالیں کے لیے کافی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آگ سے ابدی آگ مراد ہے نہ کہ وقتی اور عارضی جیسے کہ گناہ گار مومنین کے لیے ہے‘ یعنی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ واللہ اعلم۔