سنن النسائي - حدیث 3103

كِتَابُ الْجِهَادِ فَضْلُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ صحيح أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ فَكَتَبَ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَهُ فَقَالَ هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3103

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل (جہاد سے پیچھے) بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی فضیلت کا بیان حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’میرے پا س کندھے کی ہڈی یا کوئی تختی لاؤ‘ پھر آپ نے لکھوایا: {لاَ یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْن}’’(جہاد سے پیچھے) بیٹھ رہنے والے مومن اور جہاد کرنے والے برابر نہں ہوسکتے۔‘‘ حضرت عمروابن کلثوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے: (اے اللہ کے نبی!) کیا مجھے رخصت ہے؟ پھر یہ الفاظ اترے: {غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ} ’’جو معذور نہ ہوں۔‘‘ ’’کندھے کی ہڈی‘‘ اس دور میں لکھنے کے لیے اس قسم کی چیزیں ہی استعمال ہوتی تھیں۔ کندھے کی ہڈی چونکہ باریک ہوتی ہے‘ لہٰذا لکھنے کے لیے موزوں تھی۔ ’’لوح‘‘ سے مراد پتھر یا لوہے یا لکڑی کی تختی ہے۔ رسول اللہﷺ خود لکھنا نہیں جانتے تھے۔ کاتب صحابئہ کرام رضی اللہ عنہ کو لکھوایا کرتے تھے۔ آپ خود اور دوسرے صحابئہ کرام رضی اللہ عنہ زبانی یاد رکھتے تھے۔