سنن النسائي - حدیث 310

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ بَاب الْبُزَاقِ يُصِيبُ الثَّوْبَ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مِهْرَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ وَإِلَّا فَبَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 310

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ کپڑے کو تھوک لگ جائے تو...؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے آگے اور دائیں نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔‘‘ ورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک کر کپڑے کو آپس میں مل لیا تھا۔ (۱) سامنے تھوکنا تو عام حالات میں بھی قبیح ہے۔ نماز میں تو انسان اپنے مالک حقیقی سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یوں سمجھے کہ اللہ تعالیٰ سامنے ہے، لہٰذا سامنے تھوکنا تو سخت گستاخی اور بدتہذیبی ہے۔ (۲) دائیں طرف تھوکنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ دائیں طرف فرشتۂ رحمت ہوتا ہے۔ (۳) ببائیں طرف اس وقت تھوک سکتا ہے جب وہاں کوئی موجود نہ ہو ورنہ وہ اس کی دائیں جانب ہوگی۔ پاؤں کے نیچے بھی تب تھوک سکتا ہے جب مٹی یا ریت پر کھڑا ہو۔ اگر فرش ہے یا صف وغیرہ بچھی ہے تو نیچے تھوکنا بھی منع ہے۔ اس وقت صرف آخری طریقہ قابل عمل ہگا، یعنی کپڑے میں تھوکنے کا، جس کی طرف ورنہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے۔ (۴) ورنہ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بیان کرکے اشارہ کیا گیا ہے کہ ورنہ ایسے کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا تھا۔ آج کل کپڑے کے بجائے ٹشو پیپر کا استعمال بہت مناسب بدل ہے۔