سنن النسائي - حدیث 3075

الْمَوَاقِيتِ بَابُ الْمَكَانِ الَّذِي تُرْمَى مِنْهُ جَمْرَةُ الْعَقَبَةِ ضعيف أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ لَا تَقُولُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ قُولُوا السُّورَةَ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَعْرَضَهَا يَعْنِي الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَكَبَّرَ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقُلْتُ إِنَّ أُنَاسًا يَصْعَدُونَ الْجَبَلَ فَقَالَ هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ رَمَى

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3075

کتاب: مواقیت کا بیان وہ جگہ جہاں سے جمرۂ عقبہ کو رمی کی جاۓ گی حضرت اعمش سے روایت ہے کہ میں نے حجاج کو یہ کہتے سنا کہ سورہ بقرہ نہ کہو بلکہ یوں کہو: وہ سورت جس میں گائے کا ذکر کیا گیا ہے۔ میں نے یہ بات حضرت ابراہیم نخعی سے ذکر کی۔ وہ فرمانے لگے: مجھے حضرت عبدالرحمن بن یزید نے بیان کیا کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب انھوں نے جمرہ عقبہ کو رمی کی۔ آپ وادی کے پیٹ میں کھڑے ہوئے اور جمرے کی طرف منہ کیا، پھر اسے سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہا۔ میں نے کہا: کچھ لوگ پہاڑ پر چڑھ کر رمی کرتے ہیں۔ فرمانے لگے: قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اس جگہ میں نے اس شخصیت کو رمی کرتے دیکھا جن پر سورہ بقرہ اتاری گئی۔ حجاج کا یہ قول غیر ضروری تکلف ہے۔ سورہ بقرہ نام بن چکا ہے، لہٰذا اس کا لفظی ترجمہ نہیں کریں گے۔ ناموں میں اختصار ملحوظ ہوتا ہے ورنہ سورئہ بقرہ کے معنی بھی یہی ہیں کہ جس سورت میں گائے کا ذکر ہے۔ حجاج نے لفظی ترجمے (گائے کی سورت) کی رو سے سوء ادب خیال کیا لیکن یہ درست نہیں۔