سنن النسائي - حدیث 3063

الْمَوَاقِيتِ بَاب الرُّكُوبِ إِلَى الْجِمَارِ وَاسْتِظْلَالِ الْمُحْرِمِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَهْبَاءَ لَا ضَرْبَ وَلَا طَرْدَ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3063

کتاب: مواقیت کا بیان جمروں کی طرف سوار ہو کر جانا اور محرم کا سایہ حاصل کرنا حضرت قدامہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو قربانیوں والے دن اپنی بھورے رنگ کی اونٹنی پر سوار جمرہ عقبہ کو رمی کرتے دیکھا۔ نہ سواریوں کو مارا جا رہا تھا، نہ انھیں بھگایا جا رہا تھا اور نہ ہٹو بچو کا شور تھا۔ (۱) یہ نبی اکرمﷺ کے حسن اخلاق کی بڑی شاندار مثال ہے جسے موجودہ حکمران پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ آج کل کے حکمرانوں کی جلسہ گاہوں اور اجتماع گاہوں میں دھکم پیل اور شور شرابا دیدنی ہوتا ہے۔ کوئی ان کے قریب پھٹکنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ صرف یہی نہیں بلکہ جس راستے سے انھوں نے گزرنا ہو، وہاں اور اس کے اردگرد دیگر راستوں پر ٹریفک گھنٹوں بلاک رہتی ہے۔ ہر چھوٹا بڑا اس سے متاثر ہوتا ہے اور نظام زندگی معطل ہو کر رہ جاتا ہے۔ ٹریفک میں پھنسی ایمبولینسیں ہوٹر بجا کر اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہوتی ہیں کہ شاید ہمارے حکمرانوں کو کچھ احساس ہو، مگر حکمران، جو اپنے آپ کو انسانوں سے بالا تر کوئی اور مخلوق سمجھتے ہیں اور اس ملک اور اس کی ہر ایک چیز کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اللہ ہدایت نصیب فرمائے۔ (۲)رمی جمرات کے وقت دھکم پیل سے لوگوں کو ایذا نہیں دینی چاہیے بلکہ حسن ادب، لحاظ، برداشت، در گزر اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔