سنن النسائي - حدیث 3051

الْمَوَاقِيتِ بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلضَّعَفَةِ أَنْ يُصَلُّوا يَوْمَ النَّحْرِ الصُّبْحَ بِمِنًى صحيح أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْ أَشْهَبَ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3051

کتاب: مواقیت کا بیان کمزور عورتوں اور بچوں کو اجازت ہے کہ وہ یوم نحر کو صبح کی نماز منیٰ میں آ پڑھیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے کمزور، عورتوں اور بچوں میں (رات ہی کو) بھیج دیا تھا۔ ہم نے صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی اور جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں۔ اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھنا یا بعد میں وقوف کرنا حج کے ارکان میں شامل نہیں۔ اس کے بغیر بھی حج ہو سکتا ہے ورنہ رسول اللہﷺ عورتوں کو رات کے وقت منیٰ جانے کی اجازت نہ دیتے۔ لیکن یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ یہ رخصت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کا ذکر ہے حدیث میں ہو چکا ہے، لہٰذا اس حدیث میں مزدلفہ میں نماز فجر ادا کرنے کی عدم رکنیت کی دلیل پکڑنا درست نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے نماز میں قیام رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن ضعیف شخص جو اس کا متحمل نہیں وہ اس رکن سے مستثنیٰ ہے۔ اسی طرح مزدلفہ میں نماز فجر کی ادائیگی کا مسئلہ ہے۔ واللہ اعلم