سنن النسائي - حدیث 3042

الْمَوَاقِيتِ فِيمَنْ لَمْ يُدْرِكْ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ الْإِمَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ صحيح أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ وَدَاوُدَ وَزَكَرِيِّا عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَ مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاتَنَا هَذِهِ هَا هُنَا ثُمَّ أَقَامَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3042

کتاب: مواقیت کا بیان جو شخص مزدلفہ میں صبح کی نماز امام کے ساتھ نہ پا سکے؟ حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو مزدلفہ میں وقوف فرماتے (ٹھہرے) دیکھا۔ آپ نے فرمایا: ’’جس شخص نے یہ نماز (نماز فجر) اس جگہ ہمارے ساتھ پڑھی، پھر ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا اور وہ اس سے قبل دن یا رات کسی وقت عرفات میں وقوف کر چکا ہو تو اس کا حج پورا ہو گیا۔‘‘ (۱) فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد جبل قزح کے قریب جا کر یا مزدلفہ میں کسی بھی جگہ ذکر اذکار کرنا وقوف کہلاتا ہے۔ یہ وقوف سورج طلوع ہونے سے کچھ پہلے تک جاری رہے گا۔ سورج طلوع ہونے سے قبل ہی منیٰ کی طرف چل پڑنا مسنون ہے۔ (صحیح البخاری، الحج، حدیث: ۱۶۸۴)۔ (۲) روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص عرفات سے واپسی میں اتنا لیٹ ہو جائے کہ مزدلفہ میں امام حج کے ساتھ شریک نہ ہو سکے، اس کا حج نہیں ہوگا۔ البتہ جو شخص عرفات میں وقوف کر چکا ہو اور وہ صبح سے پہلے مزدلفہ آگیا ہو مگر نیند وغیرہ کی وجہ سے نماز اور وقوف سے لیٹ ہوگیا ہو، اس کا حج پورا ہو جائے گا۔ گویا صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھنا ضروری ہے، جماعت کے ساتھ ہو یا الگ۔ یاد رہے! صحیح قول کے مطابق صبح کی نماز مزدلفہ میں ادا کرنا حج کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جس کے فوت ہونے سے حج نہیں ہوتا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الفقھیۃ المیسرۃ، لحسین العودۃ: ۴/ ۳۹۱)