سنن النسائي - حدیث 3031

الْمَوَاقِيتِ الْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِالْمُزْدَلِفَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3031

کتاب: مواقیت کا بیان مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کر کے پڑھنا حضرت سالم کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ایک اقامت کے ساتھ پڑھی تھیں۔ ان کے درمیان یا ان کے بعد آپ نے کوئی نوافل ادا نہیں کیے۔ (۱) ’’ایک اقامت کے ساتھ‘‘ احناف نے اسی کو اختیار کیا ہے، بشرطیکہ عشاء کی نماز مغرب سے متصل پڑھ لی جائے اور اگر فاصلہ ہو جائے تو عشاء کے لیے الگ اقامت کہی جائے، البتہ عرفات میں ظہر و عصر دو اقامت سے پڑھی جائیں گی کیونکہ عصر اپنے وقت سے پہلے پڑھی جا رہی ہے۔ لیکن احناف کا یہ موقف صحیح نہیں، اس لیے کہ یہی روایت صحیح بخاری (حدیث نمبر ۱۶۷۳) میں بھی ہے، وہاں دونوں نمازوں کے لیے الگ الگ اقامت کی تصریح موجود ہے اور محدث کبیر شیخ البانی رحمہ اللہ نے انھیں الفاظ کو ’’محفوظ‘‘ قرار دیا ہے، اس لیے راجح اور صحیح موقف یہی ہے کہ دو نمازوں کو جمع کرنے کی صورت میں اقامت الگ الگ ہی کہی جائے گی۔ جمہور اہل علم کا مسلک بھی یہی ہے، الب تہ اذان ایک ہی ہوگی۔ (۲) ’’نوافل ادا نہیں کیے‘‘ دو نمازیں جمع کر کے پڑھنے کی صورت میں نوافل نہیں پڑھے جائیں گے، خواہ حج میں اکٹھی پڑھی جائیں یا عام سفر میں یا (مجبوراً) گھر میں۔ یہ متفقہ اصول ہے۔ نہ درمیان میں، نہ آخر میں، یعنی نہ پہلی نماز کے بعد نہ دوسری کے بعد۔ جمع تقدیم کی صورت ہو، جیسے عرفات میں تھی یا جمع تاخیر کی، جیسے مزدلفہ میں تھی۔