سنن النسائي - حدیث 3019

الْمَوَاقِيتِ فَرْضُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ نَاسٌ فَسَأَلُوهُ عَنْ الْحَجِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ عَرَفَةُ فَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3019

کتاب: مواقیت کا بیان عرفات میں وقوف فرض ہے حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر تھا کہ آپ کے پاس کچھ لوگ آئے اور آپ سے حج کے بارے میں سوالات کیے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’حج وقوف عرفہ کا نام ہے۔ جو شخص مزدلفہ میں گزاری جانے والی رات کی صبح طلوع ہونے سے پہلے عرفات (سے ہو کر مزدلفہ) آجائے اس کا حج پورا ہوگیا۔‘‘ وقوف عرفات حج کا رکن اعظم ہے۔ اگر کوئی مجبور شخص سیدھا میقات سے عرفات پہنچ جائے، خواہ عرفہ کے دن یا اس سے اگلی رات یا طلوع فجر سے قبل یا طلوع فجر کے وقت اور چند لمحوں کا وقوف کر لے تو اس کا حج ہو جاتا ہے، لیکن اگر اس سے بھی لیٹ ہو جائے تو اس کا حج نہیں ہوگا۔ فرض ہو تو دوبارہ کرنا ہوگا ورنہ معاف ہے۔ مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ دراصل وقوف عرفات ہی حج ہے، باقی تو سنن وواجبات ہیں جو عام حالات میں تو ترک نہیں کی جا سکتیں مگر مجبور ومعذور کے لیے کچھ گنجائش ہے۔ وقوف کی قضا وقت کے بعد نہیں ہو سکتی جبکہ دیگر سنن حج کی قضا وقت کے بعد بھی ہو سکتی ہے۔