سنن النسائي - حدیث 3007

الْمَوَاقِيتِ النَّهْيُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ صحيح أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ يَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ النَّحْرِ وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3007

کتاب: مواقیت کا بیان عرفے کے دن (عرفہ میں)روزہ رکھنے کی ممانعت حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یوم عرفہ (۹ ذوالحجہ) یوم نحر (۱۰ ذوالحجہ) اور ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ) ہم مسلمانوں کے لیے عید کے دن ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ (۱) ان دنوں میں سے یوم عرفہ تو صرف حاجیوں کے لیے عید ہے کیونکہ وہ اس دن اکٹھے ہو کر عبادات حج ادا کرتے ہیں۔ باقی مسلمانوں اس دن کچھ نہیں کرتے، لہٰذا یہ ان کے لیے عید نہیں۔ وہ اس دن روزہ رکھ سکتے ہیں بلکہ مستحب اور افضل ہے، البتہ حاجی لوگ اس دن عرفے میں روزہ نہیں رکھ سکتے کیونکہ یہ ان کی عید ہے، نیز اس دن مشکل کام خود کرنے پڑتے ہیں۔ منیٰ سے عرفات کو جانا اور وہاں موسم کی شدت اور اجتماع کی مشقت برداشت کرنا دل گردے کا کام ہے، اس دن روزہ رکھنے سے انھیں تنگی پیش آنے کا غالب امکان ہے، لہٰذا ان کے لیے روزہ رکھنا منع ہے۔ دوسرے لوگ اپنے گھروں میں ہوتے ہیں۔ وہ اس دن روزہ رکھ سکتے ہیں۔ یہ ان کے لیے خصوصی ثواب کا کام ہوگا۔ بعد والے دن، یعنی یوم نحر اور ایام تشریق سب مسلمانوں کے لیے عید ہیں کیونکہ سب لوگ قربانیاں ذبح کرتے ہیں اور ان دنوں میں اللہ کی ضیافت سے متمتع ہوتے ہیں۔ یہ چار دن اور عید الفطر کا دن تمام اہل اسلام کے لیے کھانے پینے کے دن ہیں، لہٰذا ان تمام ایام میں روزہ رکھنا تمام مسلمانوں کے لیے ہر جگہ ممنوع ہے۔ (۲) ایام تشریق کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ان دنوں لوگ قربانی کا گوشت باریک بنا کر دھوپ میں سکھاتے تھے تاکہ خراب نہ ہو اور بعد میں کام آسکے۔ گوشت کو باریک کر کے دھوپ میں سکھانا عربی زبان میں ’’تشریق‘‘ کہلاتا ہے۔