سنن النسائي - حدیث 3000

الْمَوَاقِيتِ أَيْنَ يُصَلِّي الْإِمَامُ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَالَ بِمِنًى فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ بِالْأَبْطَحِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3000

کتاب: مواقیت کا بیان ترویے کے دن امام ظہر کی نماز کہاں پڑھے؟ حضرت عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سمجھی ہو۔ مجھے بتائیں کہ آپ نے ترویے کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انھوں نے فرمایا: منیٰ میں۔ میں نے کہا: واپسی (۱۳ ذوالحجہ) کے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں۔ (۱) یوم ترویہ کے دن منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھنا سنت ہے لیکن یہ حج کا فرض نہیں کہ اس کے رہ جانے سے کوئی کفارہ لازم آتا ہو۔ سنت یہ ہے کہ یوم ترویہ کی ظہر سے یوم عرفہ کی صبح تک پانچ نمازیں منیٰ میں پڑھی جائیں لیکن اگر کوئی شخص براہ راست یوم عرفہ (۹ ذوالحجہ) منیٰ میں ٹھہرے بغیر عرفات پہنچ جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ (۲) منیٰ سے واپسی کے موقع پر ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز ابطح (مکہ مکرمہ سے قریب باہر ایک میدان) میں پڑھنا اور وہاں رات کا۔ کچھ حصہ گزارنا مستحب ہے۔ اس عمل کو تحصیب کہا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کے بعد خلفاء بھی یہاں پڑاؤ کرتے رہے ہیں اور جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی نفی منقول ہے، تو اس سے اس کی سنیت یا استحباب کی نفی نہیں بلکہ اس کے لزوم ووجوب کی نفی مراد ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کے رہ جانے سے حج متاثر ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (فتح الباری: ۳/ ۵۹۱)